اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) وفاق اور وفاقی اکائیوں، پاک فوج ، متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے مابین بے مثال تعاون اور ورکنگ ریلیشن کی بدولت کورونا وائرس کو شکست دینے کے لئے اتفاق رائے قومی کاوشیں کامیابی سے آگے بڑھ رہیں ہیں ، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی ) کے پلیٹ فارم سے پہلے 100دنوں میںکورونا وائرس کے خلاف جنگ، پاکستانی قوم پرعزم، …
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے پلیٹ فارم سے” قومی کاوشیں”
مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) وفاق اور وفاقی اکائیوں، پاک فوج ، متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے مابین بے مثال تعاون اور ورکنگ ریلیشن کی بدولت کورونا وائرس کو شکست دینے کے لئے اتفاق رائے قومی کاوشیں کامیابی سے آگے بڑھ رہیں ہیں ، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی ) کے پلیٹ فارم سے پہلے 100دنوں میںکورونا وائرس کے خلاف جنگ، پاکستانی قوم پرعزم، وفاقی و صوبائی ہم آہنگی، سول و فوجی اشتراک ، عوامی اعتماد کا مظہرثابت ہوا ، 27 مارچ کو ادارے کے قیام سے ابتک محض 100 دن میں ایک ہزار سات سو سے زائدگھنٹے فیصلہ سازی میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے ، 65 ممالک میں محصور ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو پی آئی اے اور غیر ملکی 478 پروازوں سے وطن واپس لایا گیا، ٹیسٹنگ صلاحیت 472 سے بڑھ کر یومیہ 50 ہزارسے زائد ، لیبارٹریز کی تعداد 2 سے 132 ہوگئی، اسلام آباد میں 35 دنوں میں آئسولیشن ہسپتال، انفیکشس ٹریٹمنٹ سینٹرکا قیام عمل میں لایا گیا ، اس وقت ملک میںکورونا مریضوں کے لئے 1562 وینٹیلیٹرز موجود ، 1895 مزیدوینٹیلیٹربھی جلد فراہم کئے جا رہے ہیں، ریمپ اپ پلان کے تحت اسلام آباد کے ہسپتالوں کو 41 وینٹیلیٹر فراہم کر دیئے گئے ہیں، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک طبی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی گئی، وزیراعظم، آرمی چیف سمیت سروسز چیفس، غیر ملکی سفرائ،دفاعی اتاشیوں،ملکی و غیر میڈیا، چینی فوجی اور سول وفود نے کمانڈ سینٹر کا دورہ کرکے کارکردگی کو سراہا، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر، یکجا، متحداور پرعزم پاکستان کا حقیقی عکس ثابت ہوا۔ 100روز مکمل ہونے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق پاکستانی قوم نے ہمیشہ چیلنجز اور خاص طور پر قدرتی آفات کے خلاف جس یکجہتی عزم اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے کرونا اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا اس قدرتی وبا کے سامنے مشکلات سے دوچار تھی پاکستان بالخصوص اس کی عوام اور دیگر ادارے اس وبا کے خلاف اللہ کی مدد سے ایک اتحاد کی شکل میں سامنے آئے۔ خیبر سے بولان تک،جامشورو سے چولستان تک، مظفر آباد سے گلگت بلتستان تک ہر پاکستانی اس جذبے اور ہمت کا ایک استعارہ ہے جسے ہم پاکستان کہتے ہیں۔ 26 فروری کو پاکستان میں پہلے کیس کی تشخیص سے لے کر آج اتنے دنوں تک حکومتِ پاکستان نے نہ صرف عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اہم اقدامات اٹھائے بلکہ ہر شعبہ میں صلاحیت کو بڑھایا گیا۔ دنیا کے برعکس پاکستان پر اللہ رب العزت کا خاص کرم ہے۔ہر چیلنج میں فاتح بن کر ابھرنے والی پاکستانی قوم کورونا وائرس کے خلاف بھی ثابت قدم،متحداور پرعزم ہے۔ملکی یکجہتی کامظہرنیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹرنے کورونا وائرس کی وبا کی خلاف قومی کاوشوں کو تقویت دینے،شعبہ صحت کی بہتری، عوام تک اطلاعات کی بروقت فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا۔کمانڈسینٹر درست اور فوری فیصلوں کیلئے یومیہ ایجنڈا تیاری اورسفارشات قومی تعاون کمیٹی کو ارسال کرتا ہے۔۔نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کے ساتھ 66 اضلاع میں کمیونٹی موبلائزیشن پر متحرک طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ملک بھر میں انتظامیہ کی معاونت کا بیڑہ اْٹھایا۔اس سلسلے میں پاک فوج نے بھی بھرپور مدد کیلئے تمام وسائل، بیشتراثاثے، سپاہ، ہسپتال، لیبارٹریز وقف کردیے۔حکومت نے لاک ڈاون کے دوران محنت کشوں سمیت 1 کروڑ 23 لاکھ سے زائد لوگوں کو بھوک اور تنگدستی سے تحفظ کیلئے 26 مارچ کو احساس ہنگامی کیش پروگرام شروع کیاجس کے تحت اب تک 148 ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ بجلی کے بلوں پر 1200ارب روپے ریلیف دیا گیا۔ 65 ممالک میں محصور ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں کو پی آئی اے اور غیر ملکی 478 پروازوں سے وطن واپس لایا گیا۔قومی سطح پرکمانڈ سینٹر نے کورونا وائرس کی وبا کے خلاف موثر طریقہ کار وضع کیا۔یومیہ اعداد و شمارتیار، تجزیہ، بحرانی کیفیت میں صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔ ٹیسٹنگ صلاحیت 472 سے بڑھ کر یومیہ پچاس ہزارسے زیادہ ، لیبارٹریز کی تعداد 2 سے 132 ہوگئی۔اسلام آباد میں 35 دنوں میں آئسولیشن ہسپتال، انفیکشس ٹریٹمنٹ سینٹرمکمل ہوا۔ جو 250 بستروں پر مشتمل ہے اور جولائی کے وسط تک کام شروع کر دے گا۔ ریمپ اپ پلان کے ذریعے ملک بھر کے مختلف ہسپتالوں کی استطاعت بڑھانے کے لئے آکسیجن والے بستر اور وینٹیلیٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جولائی کے آخر تک مزید 2364 آکسیجن والے بستر شامل کیے جائیں گے جن میں آزاد کشمیرکے ہسپتالوں کو 60 بستر، بلوچستان 200 بستر، خیبر پختونخوا 390 بستر، پنجاب 620 بستر، سندھ 445 بستر، گلگت بلتستان 40 اور اسلام آباد کے ہسپتالوں کو 609 بستر دئیے جائیں گے۔ ریمپ اپ پلان کے حوالے سے اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں کو189 آکسیجن والے بستر کی فراہمی کر دی گئی ہے۔ اس وقت ملک میں کوڈ کے لئے 1562 وینٹیلیٹرز موجود ہیں جبکہ 1895 مزیدوینٹیلیٹرز بھی جلد فراہم کئے جا رہے ہیں۔ ریمپ اپ پلان کے تحت اسلام آباد کے ہسپتالوں کو 41 وینٹیلیٹرز فراہم کر دیئے گئے ہیں۔








