لاہور۔16فروری (اے پی پی):نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام پنجاب میں غذائیت سے بھرپور خوراک تک ہر فرد کی رسائی یقینی بنانے اور فوڈ فورٹیفکیشن کے فروغ کیلئے میڈیا کے کردار کو مضبوط بنانے کے مقصد سے لاہور میں میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا عنوان غذائیت سے بھرپور خوراک ہر شخص کا بنیادی حق تھا جس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہیلتھ جرنلسٹس نے شرکت کی۔ …
نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام فوڈ فورٹیفکیشن کے فروغ کیلئے میڈیا کے کردار کو مضبوط بنانے کے حوالے سے میڈیا ورکشاپ

مزید خبریں
لاہور۔16فروری (اے پی پی):نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام پنجاب میں غذائیت سے بھرپور خوراک تک ہر فرد کی رسائی یقینی بنانے اور فوڈ فورٹیفکیشن کے فروغ کیلئے میڈیا کے کردار کو مضبوط بنانے کے مقصد سے لاہور میں میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا عنوان غذائیت سے بھرپور خوراک ہر شخص کا بنیادی حق تھا جس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہیلتھ جرنلسٹس نے شرکت کی۔
اس موقع پر شرکا کو فوڈ فورٹیفکیشن، پنجاب میں غذائی قلت کے چیلنجز اور پائیدار فورٹیفکیشن کیلئے سازگار پالیسی و ضابطہ جاتی فریم ورک سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ماہرین نے بتایا کہ پاکستان میں غذائی قلت ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ پنجاب میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اسٹنٹنگ، ویسٹنگ اور انڈر ویٹ کی شرح تشویشناک ہے، جبکہ خواتین اور بچوں میں خون کی کمی اور دیگر مائیکرونیوٹرینٹس کی کمی بھی بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق غذائی قلت کے باعث قومی معیشت کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جو کمزور پیداواری صلاحیت، صحت کے بڑھتے اخراجات اور بچوں کی ذہنی نشوونما پر منفی اثرات کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ فوڈ فورٹیفکیشن یعنی گندم کے آٹے، خوردنی تیل اور نمک میں آئرن، فولک ایسڈ اور وٹامنز اے اور ڈی جیسے ضروری غذائی اجزا کی شمولیت ایک کم لاگت اور مثر عوامی صحت مداخلت ہے۔
بتایا گیا کہ گندم کے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی فورٹیفکیشن پر معمولی لاگت آتی ہے جبکہ خوردنی تیل کی فورٹیفکیشن بھی نہایت کم خرچ ہے، جس سے وسیع آبادی کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ماہرین نے کہا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں لازمی فورٹیفکیشن سے متعلق اقدامات کیے جا چکے ہیں، تاہم پنجاب جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ اور گندم کا اہم پیدا کنندہ ہے، وہاں فوری طور پر جامع پالیسی اور موثر ضابطہ جاتی فریم ورک متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر سینئر پروگرام منیجر (لارج اسکیل فوڈ فورٹیفکیشن) ضمیر حیدر نے کہا کہ اگرچہ بہت سے خاندان کیلوریز کی بنیادی ضرورت پوری کر لیتے ہیں، لیکن لاکھوں افراد پوشیدہ بھوک کا شکار ہیں جو قوت مدافعت میں کمی، ذہنی نشوونما میں رکاوٹ اور پیداواری صلاحیت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلتھی پنجاب وژن کے تحت غذائیت سے بچائو کی مداخلتیں خصوصا فوڈ فورٹیفکیشن صحت کے بوجھ میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا عوامی صحت کے ان چیلنجز کو اجاگر کرنے اور پالیسی سطح پر مثبت مکالمہ فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جو پائیدار حل کیلئے سازگار ماحول کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ورکشاپ کے اختتام پر نیوٹریشن انٹرنیشنل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں غذائیت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے میڈیا کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ عوامی آگاہی میں اضافہ اور پنجاب بھر میں فوڈ فورٹیفکیشن کے پائیدار اقدامات کو تقویت دی جا سکے۔








