نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 165 افراد ہلاک اور 800 غیر ملکیوں سمیت تقریباً 1500 افراد لاپتا ہوگئے ہیں ۔
نیپال اورتبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 165 افراد ہلاک، 800 غیر ملکیوں سمیت 1500 افراد لاپتا

مزید خبریں
کھٹمنڈو/بیجنگ۔27اگست (اے پی پی):نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 165 افراد ہلاک اور 800 غیر ملکیوں سمیت تقریباً 1500 افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ ہمالیہ کے پہاڑی علاقے میں مٹی اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ دریا میں گرنے کے بعد اچانک آنے والے سیلاب نے متعدد قصبوں، دیہات، سڑکوں اور پلوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ نیپال میں 826 افراد لاپتا ہیں، جن میں تقریباً 500 غیر ملکی سیاح شامل ہیں۔ لاپتا غیر ملکیوں میں بھارت کے 177، امریکا کے 63، آسٹریلیا کے 34، برطانیہ کے 33 اور کینیڈا کے 25 شہری شامل ہیں۔چینی خطے تبت کی گیئرونگ کاؤنٹی میں 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ چین میں ہلاکتوں کی تعداد 3 بتائی گئی ہے۔
نیپال میں 5 ہزار سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں خیمے، خوراک اور دیگر ضروری امدادی سامان پہنچایا جارہا ہے جبکہ ریسکیو ٹیموں نے جمعرات کو 125 افراد کو بچایا، جن میں 20 غیر ملکی بھی شامل ہیں ۔ متاثرین میں کیلاش مانسروَر کی یاترا پر جانے والے متعدد زائرین بھی شامل ہیں۔ ہمالیائی سیاحتی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ساگر پانڈے کے مطابق کمپنی کے ساتھ یاترا پر جانے والے 15 بھارتی نژاد آسٹریلوی شہری لاپتا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فضائی جائزے کے دوران متاثرہ علاقے میں انسانی آبادی اور تعمیرات کا بیشتر حصہ تباہ نظر آیا۔
نیپال کے حکام کے مطابق ابتدائی طور پر خیال کیا گیا تھا کہ علاقے میں زلزلے کے باعث گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹنے سے سیلاب آیا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے نے واضح کیا کہ زلزلے کی سرگرمی دراصل گلیشیئر کی چٹانوں اور برف کے انہدام اور اس کے بعد ملبے کے بہاؤ کے باعث پیدا ہوئی تھی۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ تباہی سے متعلق معلومات تاحال محدود ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے آفت سے نمٹنے کے لیے ایک ماہر مشیر بھیجنے اور 5 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ کینیڈا نے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے مطابق اقوام متحدہ کی ٹیمیں اور امدادی شراکت دار متاثرہ نیپالی آبادیوں کی مدد کے لیے امدادی سامان اور عملہ بھیج رہے ہیں۔








