وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ کمپنی کو مالی طور پر مستحکم اور قابل عمل ادارہ بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اور پائیدار کاروباری ماڈل تیار کیا جائےجس میں بالخصوص یو ایف جی پر قابو پانے پر توجہ دی جائے، جبکہ عوامی خدمت کو اولین ترجیح حاصل ہو۔
سوئی سدرن کے لیے جامع حکمت عملی اور پائیدار کاروباری ماڈل تیار کیا جائے، وفاقی وزیر پٹرولیم

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ کمپنی کو مالی طور پر مستحکم اور قابل عمل ادارہ بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اور پائیدار کاروباری ماڈل تیار کیا جائےجس میں بالخصوص یو ایف جی پر قابو پانے پر توجہ دی جائے، جبکہ عوامی خدمت کو اولین ترجیح حاصل ہو۔
ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق وفاقی وزیر نے کراچی میں ایس ایس جی سی ایل کے چیئرمین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز، منیجنگ ڈائریکٹر اور سینئر انتظامیہ کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی، جس میں کمپنی کی کارکردگی، اہم کامیابیوں، آپریشنل چیلنجز اور مستقبل کی اصلاحاتی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔ایس ایس جی سی ایل بورڈ کے چیئرمین نے وفاقی وزیر کا خیرمقدم کیا، جبکہ منیجنگ ڈائریکٹر نے وزیر کو کمپنی کے اہم سنگ میل، کامیابیوں اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔ انتظامیہ نے بتایا کہ کمپنی کے گیس ڈسٹری بیوشن نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے اور حجم کے اعتبار سے یو ایف جی میں تقریباً 57 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کے الیکٹرک، صنعتی صارفین اور فرٹیلائزر پلانٹس کے لیے گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی، جبکہ گھریلو صارفین کو روزانہ تین مرتبہ گیس فراہم کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ گیس کے گردشی قرضے میں اضافہ تقریباً روک دیا گیا ہے، جو گیس کے شعبے کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہے۔وزیر نے کہا کہ قیمتوں کے مختلف سلیبز کے ذریعے گیس سبسڈی کے موجودہ نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام صارفین کے لیے گیس کی ایک منصفانہ قیمت کی جانب منتقلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمزور طبقات کو ہدفی سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس منتقلی سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور صارفین کی متبادل ایندھن کی جانب منتقلی میں کمی آئے گی۔ انہوں نے ایس ایس جی سی ایل بورڈ پر زور دیا کہ کمپنی کو خود کفیل بنانے، آپریشنل استعداد بہتر بنانے، انسانی وسائل کی صلاحیتوں میں اضافہ، نقصانات اور گیس چوری میں کمی، محصولات کی وصولی مضبوط بنانے اور وسائل کے بہتر استعمال پر مرکوز ایک جامع کاروباری اصلاحاتی حکمت عملی مرتب کی جائے۔
اجلاس کے دوران سیکرٹری پٹرولیم نے زور دیا کہ بورڈ سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ای) ایکٹ کے بنیادی تصور کے مطابق آزادانہ طور پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو اپنے مینڈیٹ کے تحت اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے ایس ایس جی سی ایل کی بہتری، استعداد اور طویل المدتی پائیداری کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پہلے ہی عالمی بینک کے ساتھ گیس کے شعبے میں جامع اصلاحات پر کام کر رہی ہے، جن کا مقصد ساختی چیلنجز سے نمٹنا اور گیس کے شعبے کو زیادہ مؤثر، پائیدار اور مالی طور پر قابل عمل بنانا ہے۔بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس جی سی ایل بورڈ نے صوبے کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لینے کے لیے نائب وزیراعظم کی سربراہی میں سیاسی کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا اور اس اقدام کو بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
وزیر نے ہدایت کی کہ بلوچستان میں گیس کی فراہمی سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، جبکہ تکنیکی چیلنجز، انفراسٹرکچر کی مشکلات اور گیس چوری کے مسائل سے بھی نمٹا جائے۔ انہوں نے صوبے میں گیس کی دستیابی اور خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کمپنی کے تمام آپریشنل، مالی اور سٹریٹجک فیصلوں میں عوامی خدمت کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے، جبکہ کمپنی کی طویل المدتی پائیداری یقینی بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات بھی جاری رکھے جائیں۔








