چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے دوسری بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) میں شریک تمام سپیکرز اور وفود کے ہمراہ کمبوڈیا کے سینیٹ کے صدر سامدیک موہا بورور تھپادی ہن سین سے خیرسگالی ملاقات کی
چیئرمین سینیٹ کی قیادت میں آئی ایس سی کے وفد کی کمبوڈیا کے سینیٹ کے صدر سے ملاقات، عالمی امن کے لیے مؤثر پارلیمانی سفارت کاری پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد / نوم پنہہ۔27اگست (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے دوسری بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) میں شریک تمام سپیکرز اور وفود کے ہمراہ کمبوڈیا کے سینیٹ کے صدر سامدیک موہا بورور تھپادی ہن سین سے خیرسگالی ملاقات کی۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کانفرنس کی میزبانی پر کمبوڈیا کے سینیٹ کا شکریہ ادا کیا اور بین الپارلیمانی مکالمے کے فروغ کے لیے سامدیک ہن سین کی قیادت اور کاوشوں کو سراہا۔آئی ایس سی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے عالمی امن کے فروغ اور بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر پارلیمانی سفارت کاری، مشترکہ اقدامات اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو ناگزیر قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت مسلح تنازعات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشی غیر یقینی، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سمیت متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں باہمی مکالمہ اور عالمی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئی ایس سی کو ایسا مؤثر پلیٹ فارم بننا چاہیے جہاں پارلیمانیں باہمی مکالمے، اتفاقِ رائے اور تعاون کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے شریک پارلیمانوں پر زور دیا کہ وہ اس فورم کے مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کریں، کیونکہ انسانیت کو درپیش چیلنجز سرحدوں کے پابند نہیں اور ان کے حل کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔پاکستان کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن کے فروغ اور تنازعات کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں، رابطہ کاری اور تحمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب روایتی سفارتی ذرائع محدود ہو جائیں تو پارلیمانی اور سیاسی سفارت کاری مکالمے کے لیے اضافی راستے فراہم کر سکتی ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے اجتماعی سلامتی کے لیے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعاون کا بھی حوالہ دیا اور اسے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے وسیع تر کوششوں کا حصہ قرار دیا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہمیں “عزم سے عمل کی طرف، مکالمے سے عملی پیش رفت کی طرف اور وعدوں سے نتائج کی طرف” بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے پارلیمانی سفارت کاری کو ادارہ جاتی شکل دینے، ابھرتے ہوئے بحرانوں پر پارلیمانوں کے مربوط ردِعمل کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔کمبوڈیا کے عشروں پر محیط تنازعات سے امن اور ترقی کے سفر کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کمبوڈیا کا تجربہ اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ مصالحت، مکالمے اور قومی یکجہتی کے ذریعے پائیدار امن اور ترقی کا حصول ممکن ہے۔







