باصلاحیت اور مستحق طلبہ کی ممتاز جامعات تک رسائی ، انسانی وسائل کو ترقی کے ترجیحی شعبوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے باصلاحیت اور مستحق طلبہ کو دنیا کی ممتاز جامعات تک رسائی فراہم کرنے اور ملکی انسانی وسائل کو قومی ترقی کے ترجیحی شعبوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے باصلاحیت اور مستحق طلبہ کو دنیا کی ممتاز جامعات تک رسائی فراہم کرنے اور ملکی انسانی وسائل کو قومی ترقی کے ترجیحی شعبوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے یہ بات واشنگٹن ڈی سی میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے عالمی روابط کے نائب صدر تھامس بینکوف سے ملاقات کے دوران کہی جہاں وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ ملاقات پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ (پاک ای ای ایف)کے تحت شروع کیے گئے ایک اہم پروگرام کے سلسلے میں ہوئی جس کا مقصد معاشی حالات سے قطع نظر میرٹ کی بنیاد پر پاکستانی طلبہ کو امریکا کی ممتاز اور اعلیٰ عالمی درجہ بندی کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ وفد نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی تاریخی رگس لائبریری کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر دونوں جانب سے خیرسگالی اور ادارہ جاتی تعاون کے عزم کا اظہار کیا گیا۔وفاقی وزیر نے ملاقات کے دوران پاکستان کی نوجوان آبادی کو ملک کا اہم انسانی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جسے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا سائنس، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، زراعت اور عوامی پالیسی جیسے اہم شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

انہوں نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سامنے باہمی سرمایہ کاری پر مبنی شراکت داری کا ایک جامع خاکہ بھی پیش کیا۔ تجویز کے مطابق پاک ای ای ایف ہر طالب علم کو سالانہ 29 ہزار امریکی ڈالر تک وظائف فراہم کرے گا جبکہ عالمی درجہ بندی کی ممتاز جامعات پاکستانی طلبہ کے لیے مکمل یا جزوی ٹیوشن فیس معافی کی صورت میں معاونت کریں گی۔ اس کے علاوہ پاکستانی طلبہ کو عالمی معیار کے تعلیمی پروگراموں سے منسلک کرنے کے لیے مشترکہ رابطہ پلیٹ فارم کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ وفاقی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے لیے 1.5 ارب روپے مختص کیے ہیں جنہیں قومی اہمیت کے حامل شعبوں میں پوسٹ گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ تعلیم کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ پاکستانی وفد نے امریکا کے دورے کے دوران کولمبیا یونیورسٹی، کارنیل یونیورسٹی، پرنسٹن یونیورسٹی، ییل یونیورسٹی، براؤن یونیورسٹی، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ہارورڈ یونیورسٹی اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی سمیت متعدد ممتاز تعلیمی اداروں سے بھی اعلیٰ سطحی روابط قائم کیے۔

امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اس اقدام کے لیے سفارتخانے کی مکمل سفارتی معاونت کا یقین دلایا۔ انہوں نے امریکا میں مقیم پاکستانی برادری اور تارکین وطن کے نیٹ ورک کو متحرک کرکے پاک ای ای ایف کے وظائف حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے اضافی معاون فنڈ قائم کرنے میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے نائب صدر تھامس بینکوف نے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ اقدام کی اہمیت کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دنیا سے ہمدردی نہیں بلکہ شراکت داری کا خواہاں ہے، ایسی شراکت داری جو صلاحیت، عزم اور اس یقین پر مبنی ہو کہ نوجوانوں میں سرمایہ کاری سے سب کو فائدہ ہوتا ہے۔

مزید خبریں