اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیشن، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی تنخواہوں اور کارکردگی، گردشی قرضے، آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) اور سی ایس ایس مقابلے کے امتحان کے لیے عمر کی بالائی حد اور امتحانی …
نیپرا کی بغیر حکومتی منظوری تنخواہوں میں اضافے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا سخت نوٹس، آڈٹ کرانے کی ہدایت، سی ایس ایس امتحان میں عمر کی حد اور مواقع بڑھانے سے متعلق سفارشات پر عملدرآمد کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیشن، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی تنخواہوں اور کارکردگی، گردشی قرضے، آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) اور سی ایس ایس مقابلے کے امتحان کے لیے عمر کی بالائی حد اور امتحانی مواقع میں اضافے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر محمد عبدالقادر اور سینیٹر ایمل ولی خان نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے ورچوئل کے ذریعے سے اجلاس میں حصہ لیا۔ سینیٹر شہادت اعوان اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اپنے ایجنڈا آئٹمز کے محرکین کی حیثیت سے شرکت کی، جبکہ سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان اور سینیٹر دوست علی جیسر خصوصی مدعوین کے طور پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے "رائٹ آف وے” سے متعلق ریگولیٹری فریم ورک کی عدم موجودگی میں رول آؤٹ ذمہ داریوں کے نفاذ کے لیے اختیار کیے گئے معیار کا جائزہ لینا تھا تاہم متعلقہ حکام کی عدم موجودگی کے باعث اس معاملے پر غور مؤخر کر دیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیکرٹری آئی ٹی، چیئرمین پی ٹی اے، وزارت قانون کے نمائندے اور وزارت آئی ٹی کے ممبر (لیگل) کو آئندہ اجلاس میں اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ کمیٹی کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین، اراکین اور اعلیٰ حکام کی تنخواہوں، الاؤنسز اور مراعات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ نیپرا نے اپنے قانون کے برخلاف وفاقی حکومت کی منظوری حاصل کیے بغیر اپنے چیئرمین اور اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ کیا۔ کمیٹی کے اراکین نے اس یکطرفہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ نیپرا نے 2018ء میں مارکیٹ کی بنیاد پر نظرثانی شدہ معاوضوں کی تجویز حکومت کو ارسال کی تھی تاہم یہ سمری تاحال حکومتی منظوری کی منتظر ہے۔ نیپرا کی مجموعی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ ادارہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے کارکردگی کے آڈٹ سے گریزاں رہا ہے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر احتساب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیپرا کی کارکردگی کا جامع آڈٹ کرانے کی ہدایت جاری کی۔ کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ تنخواہوں میں غیر مجاز اضافے کا معاملہ تفصیلی جائزے کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو بھجوایا جائے۔ گردشی قرضے اور آئی پی پیز کو کی جانے والی کیپیسٹی ادائیگیوں کے حوالے سے بریفنگ کے دوران اراکین نے غیر فعال بجلی گھروں کو بھاری کیپیسٹی ادائیگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بجلی صارفین پر غیر ضروری بوجھ قرار دیا۔ کمیٹی نے نیپرا کو بارہا ہدایات کے باوجود ٹیرف کے تعین سے متعلق تفصیلات فراہم نہ کرنے پر بھی تنقید کی اور مشاہدہ کیا کہ بعض آئی پی پیز نے بادی النظر میں حکومت کی شمسی توانائی کی پالیسی کو نقصان پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے۔ کمیٹی نے ساحلی علاقوں کے بجائے پنجاب میں درآمدی کوئلے اور آر ایل این جی پر مبنی بجلی گھروں کی تنصیب کے معاملے پر بھی غور کیا۔ متعلقہ حکام نے وضاحت کی کہ یہ بجلی گھر بڑے لوڈ سینٹرز کے قریب قائم کئے گئے تاہم کمیٹی نے نیپرا کو ہدایت کی کہ تمام آئی پی پیز، ٹیرف کے تعین، بجلی پیدا کرنے کی استعداد، تنصیب کی لاگت اور ریٹ کے تجزیے پر مشتمل جامع جدول کی صورت میں تفصیلات پیش کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بجلی کے نرخوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، جہاں ضروری ہو آئی پی پیز کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کیے جائیں اور غیر ضروری منصوبوں کے معاہدوں کو ختم کرنے پر بھی غور کیا جائے تاکہ بجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے نرخوں میں کمی لائی جا سکے۔ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بار بار تبدیلیوں کا نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے تاکہ اس پر تفصیلی غور کیا جا سکے۔ اجلاس میں سی ایس ایس مقابلے کے امتحان کے لیے عمر کی بالائی حد میں اضافے اور امتحانی مواقع بڑھانے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ کمیٹی کی سفارشات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور جلد از جلد عملدرآمد رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔








