وائٹ بال کیمپ کھلاڑیوں کی فٹنس، کنڈیشننگ اور مہارتوں میں بہتری کیلئے منعقد کیا جا رہا ہے، مائیک ہیسن
وائٹ بال کیمپ کھلاڑیوں کی فٹنس، کنڈیشننگ اور مہارتوں میں بہتری کیلئے منعقد کیا جا رہا ہے، مائیک ہیسن

مزید خبریں
لاہور۔25جون (اے پی پی):پاکستان مینز وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جاری وائٹ بال کیمپ کھلاڑیوں کی فٹنس، کنڈیشننگ اور مہارتوں میں بہتری کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ 15 جون سے شروع ہونے والے اس کیمپ میں وائٹ بال اسپیشلسٹ اور مستقبل کے لیے منتخب کیے گئے کھلاڑی شریک ہیں۔پی سی بی ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے بتایا کہ ابتدائی دو ہفتوں کے دوران میڈیکل ٹیسٹنگ اور فٹنس اسیسمنٹس پر توجہ دی گئی، جس سے کھلاڑیوں کی موجودہ جسمانی حالت کا جائزہ لینے میں مدد ملی۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے سے فٹنس کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی تکنیکی مہارتوں پر بھی کام شروع کیا جائے گا۔مائیک ہیسن کے مطابق ٹیم کے پاس تقریبا تین ماہ کا وقت موجود ہے جس کے دوران کنڈیشننگ کے شعبے میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید مغل نے میڈیکل اسکریننگ اور کنڈیشننگ کے لیے اعلی معیار مقرر کیے ہیں اور اگرچہ ٹریننگ سخت ہے، تاہم بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کھلاڑیوں کا فٹ اور مضبوط ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ فٹنس اور طاقت دونوں پہلووں پر کام جاری ہے اور ہر کھلاڑی کے لیے انفرادی کارکردگی پلان تیار کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ہر کیمپ کا آغاز کھلاڑی، ہیڈ کوچ، این سی اے اسٹاف، کنڈیشننگ اور میڈیکل ٹیموں کے ساتھ میٹنگز سے ہوتا ہے تاکہ آئندہ ہفتوں کے لیے واضح اہداف طے کیے جا سکیں۔مائیک ہیسن نے کہا کہ اگلے تین ہفتوں میں ہر کھلاڑی کے لیے مخصوص فوکس پوائنٹس ہوں گے اور تکنیکی، ٹیکٹیکل، میڈیکل اور کنڈیشننگ کے شعبوں میں منظم انداز میں کام کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ این سی اے میں تمام سرگرمیاں مکمل منصوبہ بندی اور واضح مقصد کے تحت انجام دی جا رہی ہیں اور ہر فرد کھلاڑیوں کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے انڈر 19 ٹیلنٹ کے ساتھ کام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی سمیر منہاس، فرحان یوسف، علی رضا اور عبدالسبحان کے ساتھ ملاقات اور کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو اس معیار سے روشناس کرانا ضروری ہے جس تک انہیں پہنچنا ہے، جبکہ انہیں تجربہ اور چیلنجز فراہم کرنا بھی اہم ہے تاکہ وہ مستقبل میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے تیار ہو سکیں۔
مائیک ہیسن نے مزید کہا کہ ایشیئن گیمز کے سکواڈ پر موثر انداز میں کام کرنے کے لیے مناسب وقت موجود ہے اور یہ سکواڈ تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا بہترین امتزاج ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ون ڈے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کی بھرپور تیاری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔








