اسلام آباد ۔ یکم اپریل(اے پی پی) وادی سوات سے تعلق رکھنے والی نوبل انعام یافتہ طالبہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ آنے والے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور اور ایجنڈے میں صحت اور تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے، جمہوریت کا تسلسل خوش آئند ہے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا، پاکستانی عوام اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کے نتیجہ میں امن …
وادی سوات سے تعلق رکھنے والی نوبل انعام یافتہ طالبہ ملالہ یوسفزئی کا ”اے پی پی “ کو خصوصی انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم اپریل(اے پی پی) وادی سوات سے تعلق رکھنے والی نوبل انعام یافتہ طالبہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ آنے والے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور اور ایجنڈے میں صحت اور تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے، جمہوریت کا تسلسل خوش آئند ہے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا، پاکستانی عوام اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کے نتیجہ میں امن قائم ہوا ہے، وطن واپسی سے پاکستان کا بہتر اور مثبت تشخص اجاگر ہوا ہے، بچوں بالخصوص بچیوں کی تعلیم اورصحت کے فروغ کے لئے کام جاری رکھنا چاہتی ہوں، اپنا ساتھ دینے والوں سے کہوں گی کہ ”وہ نفرت اور تشدد“ سے نفرت کریں اور اپنا پیغام مثبت اور واضح انداز میں آگے بڑھائیں، کسی سے نہ نفرت کریں اور نہ کسی کا دل دُکھائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو ”ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان“(اے پی پی) کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ پانچ سال قبل جب انہیں پاکستان سے علاج کے لئے لے جایا جا رہا تھا تو وہ کومہ میں تھیں، میں نے انگلینڈ کے ایک ہسپتال میں آنکھیں کھولیں، ساڑھے پانچ سال بعد جب وطن واپس آئی ہوں تو ایسا لگ رہا ہے کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں، ملک میں امن کے قیام میں سیکورٹی فورسز، حکومت اور عوام کا ایک کردار ہے۔








