خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کی وادی کیلاش کے لیے مالی سال 2026-27 میں 13 مقامی ترقیاتی سکیموں پر مشتمل پیکیج تجویز کیا گیا ہے جس میں سیاحتی سہولتوں، ثقافتی ورثے، پینے کے پانی، نکاسی آب، توانائی اور کمیونٹی انفراسٹرکچر کی بہتری پر توجہ دی گئی ہے۔
وادی کیلاش کے لیے 6 کروڑ 20 لاکھ روپے کا ترقیاتی منصوبہ تجویز

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کی وادی کیلاش کے لیے مالی سال 2026-27 میں 13 مقامی ترقیاتی سکیموں پر مشتمل پیکیج تجویز کیا گیا ہے جس میں سیاحتی سہولتوں، ثقافتی ورثے، پینے کے پانی، نکاسی آب، توانائی اور کمیونٹی انفراسٹرکچر کی بہتری پر توجہ دی گئی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب مالی سال 2026-27 کے مجوزہ کمیونٹی فزیکل انفراسٹرکچر ورکس پلان کے مطابق ان سکیموں کی مجموعی لاگت 6 کروڑ 20 لاکھ 23 ہزار روپے ہے۔ یہ منصوبے رمبور، بریر، بمبوریت، جنجریت اور دوبازھ کی وادیوں کے مختلف دیہات میں تجویز کیے گئے ہیں۔پیکیج میں سب سے بڑی انفرادی سرمایہ کاری دوبازھ میں دوباش پوسٹ پر سیاحتی سہولت مرکز کی تعمیر اور مضبوطی کے لیے تجویز کی گئی ہے جس کی تخمینہ لاگت 2 کروڑ 3 لاکھ 58 ہزار روپے ہے۔ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی مجوزہ پروگرام کا اہم حصہ ہے۔
رمبور میں گرام ہیریٹیج ٹریل کی بحالی کے لیے 72 لاکھ 52 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اس منصوبے کے تحت مذہبی مقامات تک مقامی آبادی کی رسائی بہتر بنانے کے لیے پیدل راستوں کو کشادہ کرنے، سیڑھیاں اور حفاظتی ریلنگ لگانے اور پتھروں سے راستوں کو مضبوط بنانے کا کام کیا جائے گا۔اسی طرح جنجریت کے گنجریت کوہ میں کیلاش دور کے تاریخی ورثے اور قبرستان کے تحفظ، بحالی اور صفائی کے لیے 62 لاکھ 26 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پروگرام میں مقامی ثقافتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے نسبتاً چھوٹے منصوبے بھی شامل ہیں۔ رمبور کے گائوں بالانکورو میں جستک خان کے ساتھ ثقافتی سٹورز کی بحالی اور قیام کے لیے 10 لاکھ روپے جبکہ بریر کے گرامبیٹ گول میں اسی نوعیت کے کام کے لیے 5 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔کمیونٹی کے مذہبی انفراسٹرکچر کی بحالی بھی پیکیج کا حصہ ہے۔
بریر کے گائوں جائو کورو میں کمیونٹی مسجد کی تعمیراتی اور ثقافتی بحالی کے لیے 10 لاکھ روپے، بمبوریت میں 15 لاکھ روپے اور رمبور میں 10 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔بنیادی شہری سہولتوں کے تحت بمبوریت کے علاقے برون میں تدفین کی جگہ کی فراہمی اور بہتری کے لیے 62 لاکھ 99 ہزار روپے کی سکیم تجویز کی گئی ہے۔پینے کے صاف پانی کے دو منصوبے بھی پیکیج میں شامل ہیں۔ شیخاندہ میں استوئی سے مکینجل تک محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے 41 لاکھ 39 ہزار روپے جبکہ بمبوریت کے کراکال علاقے میں پانی کی فراہمی کے منصوبے کے لیے 37 لاکھ 42 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
شیخاندہ میں صفائی اور سیوریج کا نظام بہتر بنانے کے لیے 80 لاکھ 10 ہزار روپے کی سکیم بھی مجوزہ ترقیاتی کاموں میں شامل ہے جس کا مقصد مقامی آبادی کو بہتر بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔توانائی کے شعبے میں بریر کے علاقے گرو میں چھوٹے پن بجلی گھر کی بحالی کے لیے 18 لاکھ 98 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔مجوزہ ترقیاتی پیکیج وادی کیلاش میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کثیرالجہتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں سیاحت کے فروغ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ پینے کے پانی، صفائی، مقامی توانائی اور ثقافتی و سماجی اہمیت کے حامل کمیونٹی مقامات کی بہتری پر توجہ دی گئی ہے۔








