ایچ ای سی کی جانب سے ہنگری کی اعلیٰ جامعات میں مختلف سطح پر تعلیم حاصل کرنے کیلئے سکالرشپس جیتنے والے پاکستانی طلباء کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد
ایچ ای سی کی جانب سے ہنگری کی اعلیٰ جامعات میں مختلف سطح پر تعلیم حاصل کرنے کیلئے سکالرشپس جیتنے والے پاکستانی طلباء کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے اسٹائپنڈیم ہنگاریکم سکالرشپ پروگرام کے تحت ہنگری کی اعلیٰ جامعات میں مختلف سطح پر تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکالرشپس جیتنے والے 209 پاکستانی طلباء کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس سال اسٹائپنڈیم ہنگاریکم سکالرشپ پروگرام کے تحت ہنگری جانے والے پاکستانی طلباء کا 11واں بیچ روانہ کیا جارہا ہے۔ رواں سال تقریباً 26,000 طلباء نے سکالرشپس کے لیے درخواستیں دیں جو پاکستانی نوجوانوں کی بین الاقوامی اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے قبل از روانگی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق، پاکستان میں ہنگری کی ڈپٹی ہیڈ آف مشن ڈاکٹر ڈورا گنس برگر، ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ ڈویژن اور گلابل انگیجمنٹ ڈویژن ایچ ای سی عائشہ اکرام اور ریکٹر ایئر یونیورسٹی ایئر مارشل (ر) ڈاکٹر عبدالمعید خان نے تقریب میں شرکت کی۔ مختلف دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہان اور فیکلٹی ممبران، سکالرشپ حاصل کرنے والے طلباء کے والدین اور پروگرام کے سابق طلبہ بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ اپنے خطاب میں چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے سکالرشپ حاصل کرنے والے طلباء کو ہنگری کے قوانین کا احترام کرنے اور ان کی پاسداری کرنے، وہاں کے متنوع علمی و ثقافتی ماحول سے بھرپور استفادہ کرنے اور ایسا علم و تجربہ حاصل کرکے وطن واپس آنے کی تلقین کی۔
انہوں نے ہنگری کی جامعات کے معیار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی طلبہ کو بین الاقوامی علمی ماحول میں معیاری تعلیم اور تحقیق کا تجربہ حاصل کرنے کے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کے لیے حکومت ہنگری اور ہنگری کے سفارتخانے کی مسلسل معاونت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔چیئرمین ایچ ای سی نے سکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کے والدین کو خراج تحسین پیش کیا اور معیاری تعلیم فراہم کرنے والے ان کے متعلقہ تعلیمی اداروں کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبہ اور محققین دنیا بھر کی ممتاز جامعات اور اداروں میں تیزی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں جو نظام تعلیم کو درپیش مشکلات کے باوجود ملک کے انسانی وسائل کی بھرپور استعداد کا مظہر ہے۔ سکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کی کامیابی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل پانچویں سال ایراسمس مونڈس سکالرشپس حاصل کرنے والے ممالک کی فہرست میں سرفہرست رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی کامیابیاں پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیت اور استعداد کا واضح مظہر ہیں۔ڈاکٹر ڈورا گنس برگر نے کہا کہ یہ الوداعی تقریب نہ صرف نئے سکالرشپ حاصل کرنے والوں کی کامیابی کا جشن منانے کا موقع ہے بلکہ اسٹائپنڈیم ہنگاریکم سکالرشپ پروگرام کی گزشتہ ایک دہائی کی شاندار کامیابیوں پر غور کرنے کا بھی موقع ہے۔ انہوں نے سکالرز پر زور دیا کہ وہ اپنے تعلیمی سفر کے دوران واضح اہداف مقرر کریں اور ان کے حصول کے لیے ثابت قدم رہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکالرشپ کا حصول محض انفرادی کامیابی نہیں بلکہ متعلقہ برادریوں اور ملک کے لیے بھی ایک کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سکالرشپس ایک تحفہ ہیں تاہم ان کے ساتھ ذمہ داری وابستہ ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق نے ایچ ای سی ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ ڈویژن کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے سکالرشپ پروگراموں کے دوررس اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایچ ای سی کے اقدامات کو کامیاب بنانے کے لیے کی جانے والی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے اسٹائپنڈیم ہنگاریکم سکالرشپ پروگرام کو کامیاب بنانے میں حکومت ہنگری کے مسلسل تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔قبل ازیں اپنے استقبالیہ کلمات میں ڈائریکٹر جنرل عائشہ اکرام نے کہا کہ یہ تقریب ایک انتہائی مسابقتی انتخابی عمل کی تکمیل کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام پاکستانی طلبہ کو عالمی معیار کے تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ متنوع بین الاقوامی علمی ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔
انہوں نے منتخب طلبہ کو ہنگری میں اپنے قیام کے دوران دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے، تنوع کو قبول کرنے، برداشت اور رواداری کو فروغ دینے اور مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ روابط سے سیکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے سکالرز پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے کردار ادا کرتے ہوئے دنیا میں پاکستان کے تاثر کو بہتر بنانے اور پاکستان اور ہنگری کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔







