پاکستان کے سب سے بڑے سی فوڈ اور شریمپ فارمنگ منصوبے کا آغاز

وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب میں بلیو اکانومی کے فروغ، شریمپ فارمنگ اور برآمدات میں اضافے کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے سی فوڈ اور شریمپ فارمنگ منصوبے کا آغاز کردیا گیا۔

لاہور۔12اگست (اے پی پی):وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب میں بلیو اکانومی کے فروغ، شریمپ فارمنگ اور برآمدات میں اضافے کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے سی فوڈ اور شریمپ فارمنگ منصوبے کا آغاز کردیا گیا۔ پنجاب میں جدید ترین اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مشینری کے کامیاب تجربے کے بعد شریمپ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں شریمپ ایکوا کلچر کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلی نے بہاولپور سمیت پنجاب میں30 ہزار ایکڑ رقبے پر شریمپ فارمنگ کا جامع پلان تیار کرنے کی اصولی منظوری دے دی جبکہ مظفرگڑھ میں کامیاب تجربات کے بعد سرگودھا میں بھی جدید ٹیکنالوجی سے شریمپ فارمنگ شروع کرنے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے منصوبے میں مرحلہ وار نجی شعبے کو بھی شامل کرنے کا حکم دیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مظفرگڑھ کے علاقے شاہ گڑھ اور علی والا جبکہ سرگودھا میں شریمپ اور ٹائیگر شریمپ کی ٹرائل پروڈکشن فارمنگ جاری ہے۔ پنجاب میں5500 ایکڑ اراضی پر ایک ہزار شریمپ فارمز تیار کیے جاچکے ہیں اور شریمپ سٹاکنگ و پروڈکشن شروع ہوچکی ہے۔ غیر ملکی ماہرین کی معاونت سے شریمپ فارمنگ کا سروے مکمل کرکے 40 ہزار سائٹس کی نشاندہی بھی کرلی گئی ہے۔ بریفنگ کے مطابق علی والا میں5300 ایکڑ رقبے پر737 تالاب قائم کیے گئے ہیں جہاں سالانہ280 ملین کی پیداوار کی حامل ہچری قائم کی جائے گی۔ علی والا شریمپ فارمز میں 10 ٹن فی گھنٹہ اور5 ٹن فی گھنٹہ پیداواری صلاحیت کے حامل دو پروسیسنگ پلانٹس بھی قائم کیے جائیں گے، جبکہ شاہ گڑھ میں پاکستان کا پہلا اسٹیٹ آف دی آرٹ ایکوا کلچر مال بنایا جائے گا۔

ایکوا کلچر مال میں شریمپ فارمرز کو سیڈ، فیڈ اور رینٹل مشینری سمیت ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ علی والا میں پاکستان کی پہلی شریمپ ڈائیگنوسٹک لیبارٹری بھی قائم ہوگی جس میں کیمسٹری، پیتھالوجی اور مائیکرو بائیولوجی کے شعبے ہوں گے۔ ایکوا کلچر مال میں تربیتی ہال بھی بنایا جائے گا۔ سرگودھا کے نواحی گائوں58 این بی میں500 ایکڑ رقبے پر 167 تالابوں میں شریمپ فارمنگ کی جائے گی۔ سرگودھا شریمپ فارم میں280 پی ایل اور سالانہ10 ملین پیداوار کی گنجائش ہوگی جبکہ وہاں ایکوا کلچر مال اور پروسیسنگ پلانٹ بھی قائم کیے جائیں گے۔ شریمپ فارمنگ کے لیے ہائبرڈ انرجی سولر سسٹم بھی نصب کیے جائیں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مظفرگڑھ کے نواحی علاقے شاہ گڑھ میں شریمپ فارمنگ کے لیے ہارویسٹر اور آٹو فیڈر سمیت جدید مشینری کا کامیاب استعمال کیا گیا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شریمپ فارمنگ کے عمل کی نگرانی میں سو فیصد نتائج حاصل ہوئے۔ شاہ گڑھ میں پہلے شریمپ فارمنگ پراجیکٹ کے تحت 100 افراد کو جدید خطوط پر تربیت بھی دی جاچکی ہے۔ حکام نے بتایا کہ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جہاں چین، ناروے، انڈونیشیا، ویت نام، ڈنمارک، بھارت اور ایکواڈور کی طرز پر جدید ترین مشینری کے ذریعے ایکوا فارمنگ کو فروغ دیا جارہا ہے۔ پنجاب کی پہلی ایکوا کلچر اتھارٹی کا قیام صوبے میں فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے اہم سنگ میل ہے۔ منصوبے میں یونیورسٹی گریجویٹس اور مقامی فارمرز کو بھی شامل کیا جارہا ہے، جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیراعلی مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کی بنجر زمین شریمپ ایکسپورٹ کا مرکز بنے گی، پنجاب ویلیو چین قائم ہونے کے بعد شریمپ کی برآمدات میں قیادت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی شریمپ کی پیداوار سے فوڈ انڈسٹری میں درآمدات پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بھی بچایا جاسکے گا۔ اجلاس میں وزیراعلی پنجاب کو کاہنہ فش مارکیٹ کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ شریمپ فارمنگ دنیا بھر میں پروٹین کے حصول کا بڑا اور نسبتا سستا ذریعہ ہے جبکہ مختلف ممالک شریمپ کی برآمدات سے اربوں ڈالر حاصل کررہے ہیں۔ علی والا میں سالانہ280 ملین کی پیداوار کی حامل ہچری کے قیام کا منصوبہ بھی بریفنگ میں پیش کیا گیا۔

مزید خبریں