ورلڈ اِکنامک فورم ، پاکستان ہنر مندی کی تعلیم میں انقلابی اقدامات لانے والے پانچ ممالک کی فہرست میں شامل

اسلام آباد ۔ 27 جنوری (اے پی پی) ورلڈ اِکنامک فورم کی سالانہ کانفرنس میں پاکستان کو ہنر مندی کی تعلیم میں انقلابی اقدامات لانے والے پانچ ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیاہے، دیگر ممالک میں انڈیا، عمان، روسی فیڈریشن، اور متحدہ عرب اِمارات اس پروگرام میں شامل ہیں۔نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد کی طرف سے یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق 23 جنوری 2020ءکو سوئٹزرلینڈ کے شہر …

اسلام آباد ۔ 27 جنوری (اے پی پی) ورلڈ اِکنامک فورم کی سالانہ کانفرنس میں پاکستان کو ہنر مندی کی تعلیم میں انقلابی اقدامات لانے والے پانچ ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیاہے، دیگر ممالک میں انڈیا، عمان، روسی فیڈریشن، اور متحدہ عرب اِمارات اس پروگرام میں شامل ہیں۔نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد کی طرف سے یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق 23 جنوری 2020ءکو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں شروع ہونے والے اِس پروگرام کے تحت ممبر ملک ہنر مندی کے تعلیم کے بارے میں جامع پالیسیاں وضع کریں گے۔ خاص طور پر انڈسٹریل انقلاب 4 کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کے باعث مختلف صنعتوں میں کام کرنے والے لوگوں کی مزید تربیت کی جائے گی، تاکہ وہ نئی ٹیکنالوجی استعمال کر کے اپنی ملازمتوں کو بہتر طور پر سر انجام دیتے رہیں۔ اسلام آباد کی نیشنل سکلز یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد مختارنے پاکستان کی اِس اہم گروپ میں شمولیت پر اطمینا ن کا اظہار کیا اور اِس بات کا اعادہ کیاکہ آنے والے دنوں میں وہ اپنی جامعہ کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر نئی ہنرمندی کے تربیتی پروگرام میں اہم کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایک سنٹر قائم کیا جائے گا جو منسٹری آف فیڈرل ایجوکیشن و پروفیشنل ٹریننگ کی اِس ضمن میں کوششوں کو مزید مستحکم کرنے میں مدد کرے گا۔ نئی ہنر مندی کی تعلیم میں انقلابی اقدامات کو ”ری سکلنگ ریولوشن“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا مربوط پروگرام ہے جو ممبر ملکوں میں ہنر مندی کی تعلیم کی نئی راہیں متعین کرے گا اور اس کے ایک اہم جزو کو ” کلوزنگ دی سکلز گیپ نیشنل ایکسیلیٹرز“ کا نام دیاگیاہے۔ انہوںنے کہا کہ اس کے تحت ممبر ممالک اپنے اپنے ملکوں میں صنعتوں اور تعلیم کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے جو آنے والے دنوں میں نئی ٹیکنالوجی کے مطابق چل سکیں۔ ابتدائی طور پر ورلڈ اکنامک فورم کا یہ پروگرام تین درجوں سے بتدریج ممبر ملکوں میں صنعتی انقلاب لائے گا۔ پہلے درجے میں ممبر ملکوں میں تعلیم کے شعبوں کے سربراہان اور صنعتکاروں سے مل کر ایک ایسا پروگرام ترتیب دیں گے جس سے صنعتی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو نئی ٹیکنالوجی سے متعارف کرایا جائے گااور ا±ن کی تربیت کی جائے گی تاکہتعلیم و تربیت کے ادارے ایسی ہنر مند افرادی قوت پیدا کریں جو صنعتی ضروریات کو پورا کرے۔ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں ہنر مندی کے پروگراموں میں مسلسل جدت لانا اور انہیں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ وقت کے ساتھ بدلتی ہوئی تبدیلیوں کو خودکار نظام کے تحت اپنے نصاب میں شامل کرتے رہیں۔ نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر پروفیسر مختار کے مطابق پاکستان کے نظام تعلیم کے لیئے سنہری موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر حکومت کا پروگرام ہنر مندی سب کے لئے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیم وتربیت کے شعبہ سے وابستہ لوگوں کو اپنے قومی اور بین الاقوامی ہنر مندی کے پروگراموں کے تحت صنعتی اور معاشی انقلاب میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔