اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی(پی وی اے آر اے) نے کہاہے کہ ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے جامع ضابطہ جاتی فریم ورک کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ جمعہ کویہاں جاری بیان کے مطابق پارلیمان نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کی منظوری دیدی ہے، یہ اقدام پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے …
ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے جامع ضابطہ جاتی فریم ورک کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے،پی وی اے آر اے
اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی(پی وی اے آر اے) نے کہاہے کہ ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے جامع ضابطہ جاتی فریم ورک کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ جمعہ کویہاں جاری بیان کے مطابق پارلیمان نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کی منظوری دیدی ہے، یہ اقدام پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک کے قیام کی جانب اہم قدم ہے۔ قانون کے مطابق پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہوگی جو پاکستان میں کام کرنے والے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کو لائسنس جاری کرے گی، ان کو ریگولیٹ کرے گی اور ان کی نگرانی کرے گی۔
یہ فریم ورک شفافیت کو فروغ دینے، سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ورچوئل اثاثہ جات کی منڈی کی سالمیت اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جبکہ مالیاتی ٹیکنالوجیز میں ذمہ دارانہ جدت کو بھی ممکن بناتا ہے۔ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو ابتدا میں جولائی 2025ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ یہ قانون اتھارٹی کو ورچوئل اثاثہ جات سے وابستہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے نمٹنے کااختیاربھی دیتا ہے جس کے ذریعے پاکستان کے ریگولیٹری طریقہ کار کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق بنایا گیا ہے۔









