اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے آؤٹ آف سکول بچوں (او او ایس سی) کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے آٹھ سول سوسائٹی تنظیموں کے ساتھ لیٹر آف انڈرسٹینڈنگ (ایل او یو) پر دستخط کئے ہیں۔ تقریب جمعرات کو وزارت میں منعقد ہوئی جس کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں ہر بچے تک تعلیم کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔تقریب کے دوران “نو چائلڈ لیفٹ …
وزارتِ وفاقی تعلیم اور آٹھ سول سوسائٹی تنظیموں کے درمیان آؤٹ آف سکول بچوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایل او یو پر دستخط

مزید خبریں
اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے آؤٹ آف سکول بچوں (او او ایس سی) کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے آٹھ سول سوسائٹی تنظیموں کے ساتھ لیٹر آف انڈرسٹینڈنگ (ایل او یو) پر دستخط کئے ہیں۔ تقریب جمعرات کو وزارت میں منعقد ہوئی جس کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں ہر بچے تک تعلیم کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔تقریب کے دوران “نو چائلڈ لیفٹ بہائنڈ” مہم کے تحت باہمی تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی جس کے ذریعے یونین کونسل کی سطح پر مربوط حکمت عملی کے تحت بچوں کی نشاندہی، داخلہ اور برقرار رکھنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری آؤٹ آف سکول بچوں کی نشاندہی اور انہیں تعلیمی نظام میں شامل کرنے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنائے گی۔
انہوں نے ہدف دیا کہ آئندہ تین ماہ کے اندر گھر گھر سروے مکمل کرکے بچوں کا اندراج یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں کمیونٹی آؤٹ ریچ اور ریئل ٹائم ڈیٹا سسٹمز کا استعمال شفافیت اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں نے وزارت کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد میں 25 ہزار آؤٹ آف سکول بچوں کی نشاندہی اور داخلے کے ہدف کے حصول کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔’’نو چائلڈ لیفٹ بہائنڈ‘‘ مہم کے تحت یونین کونسل کی سطح پر ’’کارپٹ کوریج پلان‘‘ کے ذریعے گھر گھر جا کر بچوں کی نشاندہی کی جائے گی جبکہ مقامی نمائندوں اور کمیونٹی رہنماؤں کی مدد سے والدین کو بچوں کے داخلے کے لئے آمادہ کیا جائے گا۔
ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے بچوں کے اندراج اور پیشرفت کی مسلسل نگرانی بھی کی جائے گی تاکہ ڈراپ آؤٹ کی شرح کو کم کیا جا سکے۔تقریب میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا)، نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز سمیت دیگر شراکت دار تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے۔وزارتِ تعلیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ایل او یو پر دستخط تعلیم کے شعبے میں شمولیتی اور مساوی مواقع کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔








