وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے ریمیڈیل تھراپی سروسز کی فراہمی کے منصوبے کے آغاز کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیئے

اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے جامع تعلیم کے فروغ کے لیے اہم اقدام کے طور پر وفاقی نظامتِ تعلیم (ایف ڈی ای) کے تحت 346 تعلیمی اداروں میں’’ ریمیڈیل تھراپی سروسز کی فراہمی‘‘ کے منصوبے کے آغاز کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائیکالوجی، مرکزِ امتیاز، …

اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے جامع تعلیم کے فروغ کے لیے اہم اقدام کے طور پر وفاقی نظامتِ تعلیم (ایف ڈی ای) کے تحت 346 تعلیمی اداروں میں’’ ریمیڈیل تھراپی سروسز کی فراہمی‘‘ کے منصوبے کے آغاز کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائیکالوجی، مرکزِ امتیاز، قائداعظم یونیورسٹی کے ساتھ شراکت داری کو باضابطہ شکل دی گئی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سیکرٹری وزارت ندیم محبوب اور وفاقی نظامتِ تعلیم کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جبکہ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ حنیف نے معاہدے کو حتمی شکل دی۔ یہ اقدام ڈسلیکسیا بل 2022 کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد سیکھنے میں مشکلات کا شکار طلبہ کو بروقت اور موثر معاونت فراہم کرنا ہے۔

منصوبے کے تحت 60 ماہر ریمیڈیل تھراپسٹس اور 3 تجربہ کار کوآرڈینیٹرز پر مشتمل ٹیم تعینات کی جائے گی جو طلبہ کی تشخیصی جانچ کے ساتھ ساتھ تحقیقی بنیادوں پر مبنی علاج میں معاونت فراہم کرے گی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے ماہر نفسیاتی خدمات کو اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ یکجا کیا جائے گا تاکہ ایک پائیدار نظام تشکیل دیا جا سکے۔ اس نظام کے تحت مختلف تعلیمی ضروریات کے حامل طلبہ کو رسمی تعلیمی ڈھانچے کے اندر اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔یہ منصوبہ حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک میں جامع اور مساوی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور ہر بچے کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر آئیں۔