وزارت انسانی حقوق خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کو عملہ جامہ پہنا رہی ہے، وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کا تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ان کی وزارت خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کو عملی جامہ رہی ہے، زینب الرٹ کے باعث بچوں سے بدسلوکی کی رپورٹنگ میں اضافہ ہوا اور روک تھام میں مدد ملی، وزارت کے حالیہ اقدامات کے باعث خواتین میں اپنے حقوق کے بارے میں شعور کی سطح بڑھے گی ۔ ان خیالات کا …

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ان کی وزارت خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کو عملی جامہ رہی ہے، زینب الرٹ کے باعث بچوں سے بدسلوکی کی رپورٹنگ میں اضافہ ہوا اور روک تھام میں مدد ملی، وزارت کے حالیہ اقدامات کے باعث خواتین میں اپنے حقوق کے بارے میں شعور کی سطح بڑھے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں مقامی ہوٹل میں وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام خواتین کے بنیادی حقوق کے بارے میں 16 روزہ مہم شروع کرنے، صنفی بنیاد پر تشدد کی خلاف ورزیوں اور بچوں سے بدسلوکی کی موثر رپورٹنگ کے لئے ہیلپ لائن 1099 ایپ کے اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری انسانی حقوق رابعہ جویری آغا ، یورپی یونین وفد کے ڈپٹی ہیڈ تھامس سیلر ،اقوام متحدہ کی کنٹری نمائندہ محترمہ شمیلہ رسول بھی موجود تھیں۔تقریب کی نظامت کے فرائض وزارت انسانی حقوق کی وفاقی سیکریٹری رابعہ جویری آغا نے انجام دیئے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کو مضبوط اور موثر بنانے کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ماہ ہم نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر زینب الرٹ میکنزم کا اجرا کیا جبکہ کمیونٹی کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دینے کی مہم چلائی ۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی رپورٹنگ میں اضافہ ہوا اور روک تھام میں مدد ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے بنیادی حقوق کے بارے میں وڈیوز ، فلموں اور ریڈیو پروگرامز کی مدد سے چلائی گئی سولہ روزہ مہم اور ہیلپ لائن و ایپ کے اجرا سے نہ صرف خواتین میں اپنے حقوق کے بارے میں شعور کی سطح بڑھے گی بلکہ ہمیں امید ہے کہ صنف پر مبنی تشدد اور بچوں سے بدسلوکی سے متعلق خطرناک اعداد و شمار میں بھی کمی ہونا شروع ہوگی ۔ۚاس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے یورپی یونین وفد کے ڈپٹی ہیڈ تھامس سیلر نے کہا کہ یورپی یونین کے لئے تیسری دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کو فروغ دینا ضروری ہے۔ لہذا ہم حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون اور ان بنیادی حقوق کو فروغ دینے کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقوق پاکستان منصوبہ اس تعاون کی ایک عمدہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کووڈ 19 کی بحرانی صورتحال کے باوجود اس حوالے پیشرفت قابل قدر ہے ۔ واضح رہے کہ حقوق پاکستان پراجیکٹ جسے یورپی یونین کی مالی اعانت حاصل ہے کا بنیادی مقصد حکومت پاکستان کی انسانی حقوق کے فروغ کے لئے جاری کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔ یہ پروگرام انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ادارہ جاتی اور پالیسی ڈھانچے کو بھی مستحکم بناتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی کنٹری نمائندہ محترمہ شمیلہ رسول نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تین میں سے ایک عورت متاثر ہوتی ہے۔ اس کا سامنا کرنے والی خواتین اور لڑکیوں کی معاشرے میں انصاف تک رسائی اور زندگی کی طرف واپس لوٹنے میں مدد کیلئے پیشرفت ہماری کامیابی کا پیمانہ ہونا چاہئے ، لہذا ضروری ہے کہ اس سفر کے ہر سطح پر تمام متعلقہ کرداروں کو حساس بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لئے اقوام متحدہ کی خواتین پاکستان کی خواتین اور لڑکیوں کی زندگی میں بہتری لانے کے لئے انسانی حقوق کی وزارت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ قبل ازیں وفاقی سیکریٹری وزارت انسانی حقوق رابعہ جویری آغا نے خیرمقدمی کلمات میں کہا کہ وزارت انسانی حقوق پاکستان میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد اور استحصال کے خاتمے کے لئے شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہیلپ لائن اور ایپ کا اجرا اس سمت میں ایک اور اہم قدم ہے۔ تقریب میں وزارت انسانی حقوق نے خواتین کے بنیادی حقوق کے بارے میں 16 روزہ مہم کا آغاز کیا۔ مہم کے دوران جنسی ہراسگی، زیادتی، نکاح نامہ، ایف آئی آر کے اندراج اور خواتین کی وراثت سمیت اہم ترین موضوعات پر مبنی معلومات وڈیوز اور دستاویزی فلموں سے مدد لی جائے گی۔ یہ ویڈیوز اور فلمیں خواتین کی حیثیت پر قائم قومی کمیشن (این سی ایس ڈبلیو) اور شرمین عبید چنائے (ایس او سی) فلموں کے اشتراک سے تیار کی گئی ہیں۔ ان وڈیوز اور فلموں کو اردو ، سندھی ، پشتو ، پنجابی اور بلوچی زبانوں میں تیار کیا گیا ہے۔یہ بصری مواد 25 نومبر سے 10 دسمبر تک سوشل میڈیا پر براہ راست واچ پارٹیوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر نشر اور ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا ۔ ان کی نمائش فلموں کو پاکستان بھر میں متعدد یونیورسٹیوں اور کالجوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی پلیٹ فارمز پر بھی کی جائے گی جبکہ عوامی سطح پر ان موضوعات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر اور آگاہی پیدا کرنے کیلئے معروف وکلاء اور انسانی حقوق کے ماہرین کے ساتھ ریڈیو شوز کا بھی انعقاد بھی ہوگا۔علاوہ ازیں انسانی حقوق بالخصوص صنفی بنیاد پر تشدد کی خلاف ورزیوں اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی موثر رپورٹنگ کیلئے وزارت نے ہیلپ لائن 1099 ایپ کا بھی اجرا کیا جو ڈائون لوڈ کیلئے گوگل پلے سٹور پر دستیاب ہے جبکہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں ایپل سٹور پر بھی ڈاون لوڈ کرنے کیلئے دستیاب ہوگی ۔ یہ ایپ اقوام متحدہ کی خواتین کی مشاورت اور مدد سے تیار کی گئی ہے ۔ وزارت نے ہیلپ لائن کا اجرا نومبر 2018 میں کیا تھا جس کے بعد اب تک اس پر چار لاکھ 50 ہزار سے زائد کالز موصول ہو چکی ہیں جن میں سے 49 فیصد خواتین کے حقوق سے متعلق تھیں۔ ایپ کے اجرا سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق شکایات کی رپورٹنگ اور ان کا زالہ کرنے کا ایک متبادل اور موثر طریقہ کار فراہم ہوگا۔