وزارت مذہبی امور کا حج 2019ءکے لئے پالیسی کا اعلان

اسلام آباد ۔ 11 فروری (اے پی پی) وزارت مذہبی امور نے حج 2019ءکے لئے پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق رواں سال سرکاری اور پرائیویٹ سکیموں کے بالترتیب 60 اور 40 فیصد کے تناسب سے ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے۔ حج درخواستیں 25 فروری سے 6 مارچ تک وصول کی جائیں گی۔ شمالی ریجن سے حج اخراجات 4 لاکھ 36 …

اسلام آباد ۔ 11 فروری (اے پی پی) وزارت مذہبی امور نے حج 2019ءکے لئے پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق رواں سال سرکاری اور پرائیویٹ سکیموں کے بالترتیب 60 اور 40 فیصد کے تناسب سے ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے۔ حج درخواستیں 25 فروری سے 6 مارچ تک وصول کی جائیں گی۔ شمالی ریجن سے حج اخراجات 4 لاکھ 36 ہزار 975 جبکہ جنوبی ریجن سے 4 لاکھ 26 ہزار 975 روپے ہوں گے۔ سرکاری سکیم کے تحت قربانی کرنے والے حج پیکج کے علاوہ 19 ہزار 451 روپے جمع کرائیں گے۔ 80 سال یا اس سے زائد عمر رسیدہ افراد کے لئے الگ 10 ہزار افراد کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے، گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سرکاری سکیم کے تحت حج کرنے والے درخواست دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران ناکام رہنے والوں کو بغیر قرعہ اندازی کے کامیاب قرار دیا جائے گا۔ پرائیویٹ سکیم کے حج پیکج کا وزارت مذہبی امور جائزہ لے کر حاجیوں کو کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرے گی۔ پیر کو وزارت مذہبی امور کی طرف سے حج 2019ءکے لئے جاری پالیسی میں کہا گیا ہے کہ حج 2019ءکے لئے پاکستان کے مقررہ کردہ حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 کے علاوہ سعودی حکومت نے پانچ ہزار کا اضافی کوٹہ بھی دیا ہے، اس طرح حج 2019ءکے لئے پاکستان کا حج کوٹہ ایک لاکھ 84 ہزار 210 ہو گیا ہے، جس میں سے ایک لاکھ 7 ہزار 526 سرکاری سکیم جبکہ پرائیویٹ سکیم کے تحت 71 ہزار 684 افراد فریضہ حج ادا کریں گے جبکہ سعودی حکومت کی طرف سے فراہم کئے جانے والا پانچ ہزار کا اضافی کوٹہ نئی رجسٹرڈ نان کوٹہ ہولڈرز پرائیویٹ کمپنیوں کو دیا جائے گا۔ گزشتہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی کسی کو مفت حج نہیں کرایا جائے گا۔ حج 2019ءکے لئے شمالی ریجن جس میں اسلام آباد، پشاور، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان اور رحیم یار خان شامل ہیں، کے لئے حج پیکج 4 لاکھ 36 ہزار 975 جبکہ جنوبی ریجن جس میں کوئٹہ، کراچی اور سکھر شامل ہیں، کے کے لئے حج اخراجات 4 لاکھ 26 ہزار 975 روپے ہوں گے۔ سرکاری سکیم کے تحت 15 ستمبر 2017ءکے بعد پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کے حج اخراجات شمالی اور جنوبی ریجن سے بالترتیب 12 ہزار 910 روپے اور 11 ہزار 910 روپے ہوں گے۔ قربانی اختیاری ہو گی، جو حاجی صاحبان گورنمنٹ سکیم کے تحت قربانی کرنا چاہتے ہیں، ان کو 19 ہزار 451 روپے حج پیکج کے علاوہ جمع کروانے ہوں گے۔ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی معیاد 10 فروری 2020ءتک ہونی چاہیے۔ سرکاری سکیم کے تحت حج درخواستیں 25 فروری سے 6 مارچ تک وصول کی جائیں گی اور 8 مارچ 2019ءکو قرعہ اندازی ہو گی۔ حج درخواستیں حبیب بینک، یونائیٹڈ بینک، نیشنل بینک، ایم سی بی، الائیڈ بینک، بینک آف پنجاب، میزان بینک، بینک الفلاح، بینک الحبیب، زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ، فیصل بینک، حبیب میٹرو بینک لمیٹڈ، عسکری بینک اور دبئی اسلامک بینک کی نامزد شاخوں میں وصول کی جائیں گی۔ عازمین حجاج کا انتخاب شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا۔ حج پالیسی میں کہا گیا ہے کہ 80 سال سے زائد عمر رسدہ فراد بمعہ مددگار یا محرم درخواستوں کو بمعہ ایک صحت مند مددگار اور 80 سال سے زائد عمر کی درخواست خاتون بمعہ ایک معاون صحت مند خاتون اور ایک مشترکہ محرم کے لئے 10 ہزار کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ اگر یہ درخواستیں 10 ہزار سے زائد موصول ہوئیں تو ان کا انتخاب عمر کے لحاظ سے سینارٹی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ حج پالیسی کے مطابق ایسے درخواست گزار جو پچھلے تین سالوں 2016، 2017 اور 2018ءسے مسلسل ناکام ہوتے آ رہے ہیں، ان میں سے 10 ہزار درخواست گزاروں کا انتخاب ایک الگ قرعہ اندازی کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا۔ اس قرعہ اندازی میں ناکام درخواست گزاروں کو عمومی قرعہ اندازی میں بھی شامل کر کے کامیاب ہونے کا موقع دیا جائے گا۔ سرکاری سکیم کے کوٹے کی 1.5 فیصد یعنی 1613 نشستوں کو پالیسی کے مطابق ہارڈ شپ کی بنیاد پر چند مخصوص شرائط کے ساتھ بالکل شفاف انداز میں پر کیا جائے گا۔ سرکاری اداروں کے ای او بی آئی سے رجسٹرڈ مزدوروں اور کم تنخواہ یافتہ سرکاری ملازمین کے لئے 500 نشستیں رکھی گئی ہیں، ان افراد کو ان کے متعلقہ ادارے نامزد کریں گے اور ان کے اخراجات بھی وہی ادارے برداشت کریں گے۔ ان کو ایک مخصوص طریقہ کار کے مطابق منتخب کیا جائے گا۔ حج پالیسی کے مطابق تمام درخواست گزار بشمول حج بدل اور نفلی حج ادا کرنے والے سرکاری سکیم میں درخواست دینے کے اہل ہوں گے، بشرطیکہ انہوں نے پچھلے پانچ سالوں 2014ءسے 2018ءتک سرکاری سکیم کے تحت حج ادا نہ کیا ہو۔ اس ضمن میں صرف خاتون کے محرم کو استثنیٰ حاصل ہو گا۔ یہ شرط پرائیویٹ سکیم پر لاگو نہیں ہو گی۔ سفر حج کے لئے کسی بھی عمر کی خاتون کے ساتھ محرم کا ہونا لازم ہو گا تاہم سعودی حکومت کے حج قوانین کی روشنی میں فقہ جعفریہ کی حاجن جس کی عمر 45 سال سے زائد ہو وہ محرم کی لازمی شرط سے مستثنیٰ ہو گی۔ حج پالیسی میں کہا گیا ہے کہ روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت ابتدائی طور پر کراچی کے حاجیوں کے لئے امیگریشن کی سہولت کراچی میں ہی فراہم کر دی جائے گی، اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو آئندہ سال یہ پراجیکٹ دوسرے شہروں میں بھی شروع کر دیا جائے گا۔ پہلی مرتبہ پاکستانی حجاج کے لئے ای ویزہ کی سہولت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ تمام عازمین حج کو پی آئی اے، سعودی ایئر لائنز اور ایئر بلیو کے ذریعے حجاز مقدس روانہ کیا جائے گا۔ پی آئی اے ایوی ایشن ڈویژن اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے خصوصی تعاون سے کوئٹہ سے براہ راست حجاج کرام کو حجاز مقدس پہنچایا جائے گا۔ سعودی حکومت سے منظوری ملنے پر سرکاری سکیم کے 50 فیصد عازمین کو پاکستان سے براہ راست مدینہ منورہ پہنچایا جائے گا اور اسی طرح ہی ان کی واپسی ہو گی اور یوں ان کے پیسوں کے ساتھ ساتھ وقت کی بچت بھی ہو گی۔ تمام حجاج کو مخصوص پیکنگ میں پانچ لیٹر آب زمزم پاکستان یا سعودی ایئرپورٹ پر مہیا کیا جائے گا۔ حجاج محافظ سکیم جو تکافل کی بنیاد پر وضع کی گئی ہے۔ حج پالیسی 2019ءمیں بھی جاری رہے گی۔ مکہ مکرمہ میں حجاج کرام کو عزیزیہ، بطحہ، قریش میں ہی ٹھہرایا جائے گا اور حجاج کرام کو ان کی رہائش سے حرم پاک اور واپس ان کی رہائش گاہ پر چھوڑنے کے لئے 24 گھنٹے ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ حج پالیسی میں کہا گیا ہے کہ حج 2019ءمیں سرکاری حج سکیم کے 100 فیصد حجاج کرام کو مدینہ منورہ میں مرکزیہ میں رہائش فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ سرکاری سکیم کے حجاج کرام کو مشترکہ قیام و طعام کی سہولتیں سعودی قوانین اور رہائشی اجازت ناموں کے مطابق مہیا کی جائیں گی۔ عازمین حج کے لئے ایک جامع پروگرام شروع کیا جائے گا۔ سرکاری سکیم کے حجاج کو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، منیٰ اور عرفات میں پاکستانی ذائقے کے مطابق تین وقت کا کھانا فراہم کیا جائے گا، کھانے کے اخراجات موجودہ حج پیکج میں شامل ہونگے۔ حج گروپ آرگنائزرز اور انرولڈ، نان کوٹہ ہولڈرز کمپنیوں کو ایک شفاف طریقہ کی روشنی میں کوٹہ دیا جائے گا۔ اس کی تفصیلات وزارت مذہبی امور کی ویب سائٹ پر بھی آویزاں کی جائے گی جو افراد پرائیویٹ سکیم کے تحت حج ادا کریں گے، ان کے لئے وزارت حج پیکج کا جائزہ لے گی تاکہ حجاج کو کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ تمام حج گروپ آرگنائزرز کے لئے ضروری ہے کہ وہ کارکردگی کی گارنٹی کے طور پر اپنے کل حج پیکج کا پانچ فیصد جبکہ نئی کمپنیوں کے لئے 10 فیصد سیکورٹی ڈیپازٹ نقد یا بینک گارنٹی کی صورت میں جمع کروانا ہو گا۔ تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر یہ رقم انہیں واپس کر دی جائے گی۔ حجاج کرام کی طرف سے حج 2018ءمیں دی گئی آراءکے مطابق پاکستان اور سعودی عرب میں دونوں حج سکیموں کے حج آپریشن کی نگرانی کے طریقہ کار کومضبوط کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں حجاج کی شکایات جو بذریعہ کال سینٹرز، ای میل اور خصوصی نگران ٹیموں کے ذریعے موصول ہوں گی، ان کا فوری ازالہ کیا جائے گا۔ حج 2019ءمیں حجاج کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے حج میڈیکل مشن، معاونین حجاج، وزارت سیزنل سٹاف اور پاکستانی لوکل معاونین پر مشتمل عملے کو تعینات کیا جائے گا۔ گلگت میں عارضی حاجی کیمپ بنایا جائے گا جہاں سے حجاج کو بسوں کے ذریعے سرکاری خرچ پر اسلام آباد ایئرپورٹ لایا جائے گا۔ گلگت بلتستان، بلوچستان، صوبہ خیبرپختونخوا کے دور افتادہ اضلاع، سکردو، تربت، خضدار، چترال اور مظفر آباد کے حجاج کی سہولت کے لئے موبائل بائیو میٹرک ویری فیکشن کا بندوبست کیا جائے گا۔