وزیراعظم شہباز شریف کا لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی ، زرعی برآمدات کے فروغ کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطہ وشراکت داری کی ضرورت پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافے، زراعت میں جدت لانے، لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطہ اور شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم شہباز شریف نے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافے، زراعت میں جدت لانے، لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطہ اور شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے اور زرعی برآمدات کے فروغ کے حوالے سےاعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے کا پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ہے، فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافے، زراعت میں جدت لانے، لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطہ اور شراکت داری ضروری ہے۔ وزیراعظم نے زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے پاکستان کے بیرون ملک مشنز میں تعینات کمرشل افسران کو موثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کی ۔

وزیراعظم نے کسانوں کو فصلوں کی نگرانی کے لیے دستیاب موبائل ایپ کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کے لیے موثر میڈیا مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے لئے زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن ناگزیر ہے۔ اجلاس میں زرعی شعبے کے فروغ اور زرعی برآمدات بڑھانے کے لئے تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کے زرعی شعبے سے برآمدات 5.18 ارب ڈالر رہیں۔

چاول، فشریز ، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو ، آم اور مکئی پاکستان کی نمایاں زرعی برآمدات رہیں۔اجلاس میں زرعی برآمدات میں اضافے کے لئے ویلیو چینز تشکیل دینے کی تجویز دی گئی اور بتایا گیا کہ چین، سعودی عرب ، ایران اور خلیجی ممالک پاکستان کی زراعت برآمدات کے حوالے سے اہم ممالک ہیں۔نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل کو فعال کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل میں وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں کی نمائندگی کریں گے۔اجلاس میں ڈیجیٹل فارمرز ڈائری-ایگری سٹیک کی تشکیل کی تجویز بھی دی گئی جس کے تحت ملک بھر کے کسانوں اور زرعی لینڈ ریکارڈز کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔ڈیجیٹل فارمرز ڈائری-ایگری سٹیک کے تحت زمین اور پانی کی جانچ کے ریکارڈ ڈیجیٹائز کئے جائیں گے، بہتر نتائج کے حامل زرعی طریقہ کاروں کے فروغ کے لئے پاک-گیپ ( Pakistan-Good Agriculture Practices) نظام تشکیل دیا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے کے برآمد کنندگان کے فروغ کے لیے زرعی فنانسنگ کے حوالے سے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیر مملکت برائے قومی غذائی تحفظ ملک رشید احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی