موسمیاتی تغیرات سے 2025 میں دنیا بھر میں 171ملین طلبا کی سکولنگ متاثر ہوئی ، یونیسف رپورٹ

یونیسف کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے دوران عالمی سطح پر 171 ملین سے زیادہ طلبا یا ہر 10 میں سے ایک طالب علم کی پری پرائمری سے لے کر اعلیٰ ثانوی تعلیم کے دوران موسمیاتی خطرات کی وجہ سے سکولنگ متاثر ہوئی ہے

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):یونیسف کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے دوران عالمی سطح پر 171 ملین سے زیادہ طلبا یا ہر 10 میں سے ایک طالب علم کی پری پرائمری سے لے کر اعلیٰ ثانوی تعلیم کے دوران موسمیاتی خطرات کی وجہ سے سکولنگ متاثر ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسف کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں موسمیاتی تغیرات سے سکولنگ کی رکاوٹوں کے اسباب کا پتہ چلانے کیلئے 106 ممالک یا خطوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا ہے اور اعدادوشمار کے مطابق موسمیاتی خطرات بشمول طوفان، سیلاب، ہیٹ ویوز، خشک سالی اور جنگلات کی آگ کی وجہ سے کلاسیں معطل ہوئیں، سکولوں کو نقصان پہنچا یا سکول میں پڑھائی کا دورانیہ کم ہوا۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ موسمیاتی خطرات لاکھوں بچوں کی تعلیم میں خلل ڈالنے کے علاؤہ سکولوں کی تباہی، خاندانوں کو متاثر کرنے اور سب سے زیادہ کمزور بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں کو بھی کلاس روم سے باہر کر دیتے ہیں۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ تجزیہ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران طوفان سکولوں میں خلل کی سب سے عام وجہ تھے، جس سے عالمی سطح پر 109 ملین طلباء متاثر ہوئے۔ اسی طرح سیلاب نے کم از کم 70 ملین طلباء کو متاثر کیا جب کہ گرمی کی لہروں نے تقریباً 50 ملین بچوں کی سکولنگ کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض سکول ندی نالوں کے قریب ہوتے ہیں اور جب سیلاب آتا ہے تو پانی سکول میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ال نینو کے حالات کئی ماہ تک شدید موسمی خطرات کا سبب بنتے ہیں جس سے بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ گزشتہ سال کے دوران مختلف آمدنی والے طبقات سے تعلق رکھنے والے تمام سطحوں کے طلباء رکاوٹوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ طالب علموں کی تین چوتھائی تعداد کم اور کم درمیانی آمدنی والے ممالک سے تعلق ہے۔ جہاں تعلیمی نظام کو اکثر موسم سے متعلق ہنگامی حالات کے دوران تعلیم کی حفاظت کے لیے درکار وسائل کی کمی درپیش ہوتی ہے۔ یونیسف کے مطابق پاکستان موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور اگست 2025 میں مون سون کے شدید سیلاب سے 28 ملین سے زیادہ طلباکی سکول واپسی میں تاخیر ہوئی جو 2025 میں موسمیات سے متعلق ریکارڈ کی گئی سب سے بڑی تعلیمی رکاوٹوں میں سے ایک ہے جب کہ مصر میں طاقتور خمسین (ہوا اور گردوغبار) کے طوفان نے ملک بھر میں ایک دن میں 2 ملین سے زائد طلباء کی کلاسیں معطل کر دیں۔ یونیسف کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کے 40 مختلف ممالک نے دوران سال موسم سے متعلق سکولوں میں رکاوٹوں کے متعدد ادوار کا سامنا کیا۔ مثال کے طور پر مڈغاسکر کو خشک سالی، طوفانوں اور سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا جس سے سال کے دوران دو لاکھ 80 ہزار طلباء متاثر ہوئے جبکہ سپین میں، ویلنسیئن کمیونٹی کے 5 لاکھ سے زیادہ طلباء مارچ میں طوفانوں سے متاثر ہوئے۔ یونیسف نے متنبہ کیا ہے کہ سیکھنے کے عمل کے نقصانات اور سکول چھوڑنے کی شرح میں اضافہ افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت، معاشی ترقی کی رفتار کو کم کر سکتی ہے اور مختلف ممالک کے لیے غربت میں کمی کے اہداف کے حصول کو بھی مشکل بنا سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سکولوں کے غیر فعال ہونے کے نتیجے میں سال 2025 میں سکولنگ میں رکاوٹوں کا سامنا کرنے والے طلبا کی زندگی بھر کی کمائی میں کم از کم 200 ارب ڈالر کا ممکنہ نقصان ہو سکتا ہے۔ مزید برآں موسمیاتی خطرات سے سکولوں کی بندش کی وجہ سے لڑکیوں کو سکول چھوڑنے کا زیادہ خطرہ درپیش ہوتا ہے۔ اسی طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے سکولوں اور صفائی ستھرائی کی سہولیات کے نقصان کے ساتھ ساتھ، نقل مکانی میں اضافہ اور خاندانی آمدنی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ مزید برآں موسمیاتی خطرات کے دوران گھر کی دیکھ بھال اور پانی جمع کرنے کی اضافی ذمہ داریاں بھی لڑکیوں پر ڈال دی جاتی ہیں۔ اس طرح کے دباؤ بچپن کی شادی کے خطرہ کو بھی بڑھا سکتے ہیں، جس سے سکولوں کے دوبارہ کھلنے پر لڑکیوں کے لیے کلاس میں واپس آنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ رپورٹ میں بعض عملی حل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جو پہلے سے ہی موسمیاتی خطرات سے سیکھنے کے عمل کو بچانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں جن میں قومی تعلیمی منصوبہ بندی میں موسمیاتی لچک کو ضم کرنا، سکول کے بنیادی ڈھانچہ کو مضبوط کرنا، رکاوٹوں کے دوران اور بعد میں سیکھنے کے تسلسل کو یقینی بنانا اور عالمی ترقی کے لئے بچوں اور نوجوانوں کو تبدیل کرنے کے لیے ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے نصاب میں موسمیاتی تعلیم کو شامل کرنا وغیرہ شامل ہے۔ یونیسف نے دنیا بھر میں حکومتوں اور شراکت داروں سے کوششوں کو تیز کرنے اور تعلیم کو آب و ہوا کے خطرات کے بدترین اثرات سے بچانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنگامی حالات کے دوران سیکھنے کے تسلسل کو سہارا دینے کے لیے تعلیمی نظام کی کی لچک کو مضبوط بنایا جائے۔ تعلیمی لچک کے لیے ملکی اور بین الاقوامی مالی اعانت میں اضافہ کیا جائے اور طلباء اور معلمین کی حفاظت کے لیے موسمیاتی لچکدار تعلیمی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ کیا جائے۔ مزید برآں لچک پیدا کرنے کے لیے بچوں اور نوجوانوں کو علم اور ہنر سے آراستہ کرنا۔ آب و ہوا اور تعلیمی ڈیٹا کے نظام کو بہتر انداز میں پیش کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ یونیسف نے کہا ہے کہ آب و ہوا کے خطرات بچوں کی زندگیوں اور مستقبل کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ آج کے بچوں اور آنے والی نسلوں کی تعلیم کے تحفظ کے لیے ہمیں ایسے سکولوں اور تعلیمی نظاموں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے موسمیاتی خطرات کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کے قابل ہوں