پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن اور میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹس کے زیر اہتمام جرمن ریڈ کراس کے تعاون سے دو روزہ نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی
ہلال احمر پاکستان اور جرمن ریڈ کراس کے اشتراک سے قومی موسمیاتی صحافت تربیتی ورکشاپ
اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن اور میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹس کے زیر اہتمام جرمن ریڈ کراس کے تعاون سے دو روزہ نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی۔ تربیتی ورکشاپ میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت موسمیاتی خطرات سے دوچار علاقوں سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد صحافیوں اور فیلڈ رپورٹرز نے شرکت کی۔تربیتی ورکشاپ کا آغاز پاکستان ریڈ کریسنٹ کے کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن پروگرام سے وابستہ سجاد علی کندھیر اور مرتضیٰ تالپورنے تربیت کے مقاصد اور اہمیت پر تفصیلی بریفنگ سے کیا۔ جرمن ریڈ کراس کے آصف امان اور پروگرام کوآرڈینیٹر غلام رسول فاروقی نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مؤثر اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔پاکستان ریڈ کریسنٹ نیشنل ہیڈکوارٹرز کے ہیڈ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن شیر زمان نے ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ موومنٹ کی تاریخ، پاکستان ریڈ کریسنٹ کے قیام، مینڈیٹ اور دائرہ کار کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن دی جبکہ اس سیشن کو ریحان علی اسسٹنٹ ڈائریکٹر میڈیا اینڈ کمیونیکیشن نے سہولت فراہم کی۔کلائمیٹ اینڈ انوائرنمنٹل جرنلسٹ انیبہ وقار نے موسمیاتی سائنس، موسمیاتی رپورٹنگ کے مختلف طریقۂ کار، سٹوری ڈویلپمنٹ، کلائمیٹ پالیسی اور عملی نیوز سٹوری مشق کے حوالے سے خصوصی سیشنز منعقد کئے۔تربیتی ورکشاپ کے دوسرے روز براڈکاسٹ جرنلسٹ اور موبائل جرنلزم ٹرینر عبدالرزاق کھٹی نے موبائل جرنلزم کے موضوع پر خصوصی سیشن لیا۔ورکشاپ کے دیگر سیشنز میں کلائمیٹ ڈیٹا جرنلزم، روزمرہ کی خبروں میں موسمیاتی پہلوؤں کی نشاندہی، مؤثر انسانی مرکز کہانیوں کی تشکیل اور قابلِ اعتماد ذرائع سے رابطے جیسے اہم موضوعات شامل تھے۔ شرکاء نے عملی طور پر اسٹوریز تیار کیں، اپنی رپورٹس پیش کیں اور ماہرین سے ادارتی رہنمائی اور فیڈ بیک حاصل کیا۔اس موقع پر چیئرپرسن ہلال احمر پاکستان فرزانہ نائیک کی جانب سے پیغام میں کہا گیا کہ موسمیاتی اقدامات کا آغاز ایسے حل سے ہونا چاہئے جو مقامی آبادیوں کی حقیقی ضروریات اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں، صحافیوں کا کردار نہایت اہم ہے کیونکہ وہ مقامی سطح پر کئے جانے والے عملی اقدامات اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے والی کمیونٹیز کی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہلال احمر پاکستان اور جرمن ریڈ کراس کی جانب سے صحافیوں کو موسمیاتی مسائل کی مؤثر رپورٹنگ کے لئے ضروری مہارتیں فراہم کرنے کے اقدام کو سراہتی ہیں۔سیکرٹری جنرل ہلال احمر پاکستان محمد عبیداللہ خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان بھر میں کمیونٹیز، روزگار کے ذرائع اور انسانی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے جس کے باعث درست، ذمہ دارانہ اور مؤثر موسمیاتی رپورٹنگ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ، انہیں موسمیاتی مسائل کو سمجھنے اور انہیں واضح، متعلقہ اور مؤثر کہانیوں میں ڈھالنے کے قابل بنانا، کمیونٹیز، پالیسی سازوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے اور زمینی سطح پر درکار عملی اقدامات اور حل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔








