وزیراعظم شہباز شریف کی مین لائن ون کی اپ گریڈیشن پر تیزی سے کام کرنے کی ہدایت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مین لائن ون (ML-1) کی اپ گریڈیشن پر تیزی سے کام کرنے اور پاکستان ریلوے میں کارپوریٹ طرز پر اصلاحات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مین لائن ون (ML-1) کی اپ گریڈیشن پر تیزی سے کام کرنے اور پاکستان ریلوے میں کارپوریٹ طرز پر اصلاحات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کی ترقی، مسافروں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور فریٹ ٹرانسپورٹ میں اضافے کے لیے مین لائن ون کی جدت کلیدی اہمیت کی حامل ہے،ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی نشاندہی شدہ اراضی کو بروئے کار لاتے ہوئے کمرشل بنیادوں پر ایم ایل ون کی تعمیر عمل میں لائی جائے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں اصلاحات پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔وزیراعظم نے پاکستان ریلوے کی قبضہ شدہ زمینوں کی نشاندہی اور ان کی واگزاری کے حوالے سے چیئرمین نیب کی سربراہی میں نیب اور وزارت ریلوے کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی املاک میں موجود حقیقی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، ریلوے کی قیمتی اراضی کو کمرشل مقاصد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرکے ملکی معیشت اور ریلوے کی ترقی میں کردار ادا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کو مضبوط اور معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے کارپوریٹ طرز پر اصلاحات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں،ریلوے کو منافع بخش بنانے اور اس کے آپریشنز کو بہتر کرنے کے لیے وزیر ریلوے بھرپور محنت کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے ریلوے کی اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے بینکوں کی فنڈنگ حاصل کرکے ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے بروئے کار لانے کی منظوری دی۔وزیراعظم نے ریلوے کی اراضی کی حقیقی تجارتی استعداد کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ دو ہفتوں میں جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 1726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں کراچی-روہڑی، روہڑی-ملتان، ملتان-لاہور اور لاہور-پشاور کے سیکشن شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی-روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ سے استفادہ کیا جا رہا ہے جبکہ ایم ایل ون کے دیگر سیکشنز کے لیے مقامی وسائل سے فنڈنگ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔اجلاس کو ایم ایل ون منصوبے کی تعمیر کے مختلف مراحل، کراچی-روہڑی سیکشن پر پیش رفت اور ریلوے کی ملکیتی اراضی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریلوے کی واگزار کرائی گئی اراضی کو کمرشل بنیادوں پر بروئے کار لانے اور ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے بینکوں کی فنڈنگ حاصل کرنے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل دو ہفتوں میں پیش کیا جائے۔اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، حنیف عباسی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔