اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سبیانتو نے 8 اور 9 دسمبر 2025ء کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ دورے کے دوران صدر پرا بووو سبیانتو نے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کیے اور صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی۔چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید …
وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ انڈونیشیائی صدر کے وفود کی سطح پر مذاکرات ، سیاسی و سفارتی، اقتصادی و تجارتی، سلامتی و دفاع سمیت مختلف شعبوں میں برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، دفتر خارجہ کا اعلامیہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سبیانتو نے 8 اور 9 دسمبر 2025ء کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ دورے کے دوران صدر پرا بووو سبیانتو نے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کیے اور صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی۔چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی صدر پرا بووو سبیانتو سے ملاقات کی۔
دورے کے دوران صدر مملکت نے انڈونیشیا کے صدر کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشان پاکستان سے نوازا۔ منگل کو دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق انڈونیشیا کے صدر کا پاکستان کا دورہ خصوصی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ پاکستان اور انڈونیشیا رواں سال سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ اس دورہ نے دونوں ممالک کو گزشتہ دہائیوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کیا۔
دونوں فریقین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ باہمی تعلقات دونوں ممالک کی آزادی سے پہلے کے ہیں اور اس تاریخی بنیاد پر باہمی تعاون کو تمام شعبوں میں مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے مستقبل میں تعاون اوردوطرفہ روابط کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔دورے کے دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا اور سیاسی و سفارتی، اقتصادی و تجارتی، سلامتی و دفاع، ثقافتی و تعلیمی، سائنس و ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبوں میں برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنمائوں نے اعلیٰ سطح کے روابط، سیاسی مذاکرات، موجودہ دوطرفہ میکنزم کے موثر استعمال اور پارلیمانی تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کی توثیق کرتے ہوئے دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگرچہ 2014ء سے دوطرفہ تجارت دوگنی ہو کر 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے تاہم مزید بے شمار مواقع موجود ہیں۔
دونوں فریقین نے موجودہ آئی پی-پی ٹی اے کو بڑھا کر جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ میں تبدیل کرنے کیلئے فوری طور پر مشترکہ مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس بلانے پر اتفاق کیا جس کے تحت مزید تجارتی رعایتیں، غیر ٹیرف رکاوٹوں کا خاتمہ اور موثر تعاون کے ذریعے دوطرفہ تجارت کی حقیقی صلاحیت کا حصول ممکن ہوگا۔روایتی تجارتی اشیاء جیسے زرعی و صنعتی مصنوعات، پام آئل، سرجیکل آلات اور دواسازی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے فریقین نے آئی ٹی، سائبر سکیورٹی اور فن ٹیک سمیت سروسز سیکٹر میں تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
حلال فوڈ انڈسٹری اور اسلامی فنانس میں تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔دونوں ممالک نے سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ فریقین نے باہمی سرمایہ کاری کو بڑھانے خصوصاً زراعت، آئی ٹی، معدنیات، سیاحت، انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ڈھانچے، روابط اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل اور انڈونیشیا کے خودمختار فنڈ کے درمیان روابط بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح کے عسکری روابط، دفاعی صنعت میں تعاون کے ادارہ جاتی ڈھانچے، خصوصی تربیتی پروگراموں اور عسکری تربیتی اداروں کے درمیان تبادلوں کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔
انڈونیشیا نے پاکستان کے ساتھ جاری عسکری تربیت اور دفاعی تعلیم کے تعاون کو سراہا۔ دونوں رہنمائوں نے دفاعی صنعت، بحری اور فضائی تربیت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے بین الاقوامی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کیلئے مشترکہ طور پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا جس میں دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے، منشیات کی غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام میں تعاون شامل ہے جو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق ہوگا۔
پاکستان نے انڈونیشیا کے صحت کے شعبے میں نمایاں ترقی کی کوششوں کو سراہا۔ دونوں ممالک نے انسانی صحت، صحت کی سہولیات، دواسازی، طبی آلات، ڈیجیٹل ہیلتھ، صحت ایمرجنسی، وبائی امراض سے بچائو، ویکسین سازی، بیماریوں کی روک تھام اور خواتین و بچوں کی صحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں ممالک نے آفات کے انتظام اور موسمیاتی لچک میں تعاون بڑھانے، معلومات کے تبادلے، استعداد کار میں اضافے اور مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔
سیاحت میں مشترکہ تاریخ اور ثقافت کی بنیاد پر موجود وسیع مواقع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں فریقین نے مشترکہ پائیدار سیاحتی منصوبوں اور باہمی تشہیری سرگرمیوں کو بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔پاکستان اور انڈونیشیا کے عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک نے تعلیمی تعاون، طلبہ کے تبادلوں اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے فروغ پر اتفاق کیا۔
تکنیکی، پیشہ ورانہ اور مذہبی تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش بھی ظاہر کی گئی۔ دونوں رہنمائوں نے علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو یقینی بنانے، کثیرالجہتی اور مضبوط عالمی حکمرانی کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان نے انڈونیشیا کو جموں و کشمیر سے متعلق اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ دونوں فریقین نے خطے میں امن و استحکام اور متعلقہ بین الاقوامی اصولوں اور دوطرفہ طریقہ کار کے تحت مسائل کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں ممالک نے فلسطین میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک نے فلسطینی عوام کےلیے منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے حصول کیلئے دو ریاستی حل کی حمایت کی جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی اصولوں کے مطابق ہو۔ دونوں فریقین نے غزہ امن منصوبہ کا خیرمقدم کیا اور غزہ کے امن کیلئے اپنی سفارتی کوششوں کے تسلسل پر اتفاق کیا۔
پاکستان نے آسیان کے ساتھ اپنے تعلقات مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انڈونیشیا نے پاکستان کی آسیان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی دلچسپی کو سراہا اور آسیان-پاکستان عملی تعاون کے شعبوں کے تحت سرگرمیوں کے موثر نفاذ کی حوصلہ افزائی کی۔دونوں رہنمائوں نے اقوام متحدہ ، اسلامی تعاون تنظیم اور ترقی پذیر ممالک کی تنظیم ڈی-8 سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انڈونیشیا 2026ء میں ڈی-8 کی چیئرمین شپ سنبھالے گا۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دوطرفہ ادارہ جاتی میکنزم کو مزید فروغ دینے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاہدے/مفاہمتی یادداشتیں بھی طے پائیں۔ صدر پرا بووو سبیانتو نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور پاکستانی عوام کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔








