احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو سماجی اشاریوں میں کمزوری کے باعث ترقی کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف 9 نومبر کو ‘دس لاکھ نوجوان سوشل موبلائزر’ اقدام کا آغاز کریں گے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو سماجی اشاریوں میں کمزوری کے باعث ترقی کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔
ماضی میں مختلف منصوبوں اور اقدامات کے باوجود ملک تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے بنیادی اشاریوں میں وہ فیصلہ کن پیش رفت حاصل نہیں کرسکا جو پائیدار قومی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار اوورسیز سمر اسکالر انٹرن شپ اور وائی پی ڈی سی ریزیڈینشل فیلوشپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی ایک منفرد قومی نوجوانوں کی متحرک کاری کا منصوبہ تیار کر رہی ہے، جس کے تحت دس لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو سماجی متحرک کار کے طور پر منظم کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر عوامی شمولیت کے ذریعے سماجی اشاریوں میں بامعنی اور پائیدار بہتری لائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے اہم سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور توانائی کو بروئے کار لانا ہے، جن میں تقریباً ڈھائی کروڑ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانا، شرح خواندگی میں اضافہ، بچوں میں غذائی قلت اور کم نشوونما جیسے مسائل پر قابو پانا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جو انسانی وسائل کی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوانوں کو صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ، منشیات اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے خلاف شعور اجاگر کرنے، صحت و غذائیت سے متعلق آگاہی بڑھانے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات میں بھی متحرک کیا جائے گا۔ احسن اقبال نے کہا کہ نوجوان رضاکار اپنے اپنے علاقوں اور برادریوں میں مثبت سماجی رویوں کے فروغ کے لیے کام کریں گے اور قومی ترقی کی ترجیحات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے میں پل کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قومی اقدام کا باقاعدہ آغاز 9 نومبر کو کیا جائے گا اور وزیراعظم محمد شہباز شریف اس پروگرام کا افتتاح کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس بڑی قوت کو قومی ترقی کے عمل میں بامعنی شراکت دار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک ملین نوجوانوں کو سماجی تبدیلی کے سفیر بنانے کے اقدام کو پاکستان کی نوجوان آبادی کی صلاحیتوں کو قومی تعمیر کے لیے بروئے کار لانے کی ایک غیر معمولی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا سفر سرکاری ایوانوں تک محدود نہیں رہ سکتا، اس کی کامیابی کی اصل کنجی ملک کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ وزارت منصوبہ بندی وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق ترقی کے ایک ایسے شراکتی ماڈل کو فروغ دے رہی ہے جس میں عوام، بالخصوص نوجوان، قومی ترقی کے عمل میں فعال شراکت دار ہوں۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے جب بھی سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور مؤثر فیصلہ سازی کو یقینی بنایا، ملک نے تیز رفتار ترقی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 2013 میں ملک کو درپیش توانائی بحران، دہشت گردی اور بدامنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کے نتیجے میں 2017 تک قومی بجلی پیداوار میں 11 ہزار میگاواٹ سے زائد کا اضافہ کیا گیا اور توانائی بحران پر قابو پانے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جس سے بنیادی ڈھانچے، توانائی اور اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوئے، تاہم 2018 میں سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں ترقی کا یہ سفر متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا طویل مدتی ہدف صرف معاشی استحکام حاصل کرنا نہیں بلکہ 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت بننا ہے۔ نوجوانوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل کو ایسے مواقع فراہم کرنا ہوں گے جن کے ذریعے وہ بلند اہداف حاصل کرسکے۔ علامہ محمد اقبال کے تصورِ شاہین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہین بلند ہمتی، خودداری، جرات، علم اور عمل کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان اقبال کے شاہین ہیں، انہیں علم، کردار اور عمل کی قوت سے پاکستان کو علمی، سائنسی اور فکری قیادت کی اس منزل تک لے جانا ہے جو کبھی مسلم دنیا کا امتیاز تھی۔ احسن اقبال نے کہا کہ وائی پی ڈی سی پروگرام کو دانستہ طور پر سیاسی تقسیم سے بالاتر رکھا گیا ہے اور اس کا مقصد نوجوانوں میں مشترکہ قومی شناخت اور ذمہ داری کا احساس اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں، نسلوں اور قبائل سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم ان کی سب سے بڑی اور مشترکہ شناخت پاکستانی ہونا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ محدود وسائل اور مشکل حالات کے باوجود پاکستان نے آزادی کے بعد نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم قومی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنی کمزوریوں کا بھی دیانت داری سے جائزہ لیں اور تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے شعبوں میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ اور ہر بچے کے لیے ابتدائی تعلیم تک رسائی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بچوں میں غذائی قلت اور کم نشوونما کے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وسائل کی معیاری ترقی کے بغیر پاکستان ترقی کی دوڑ میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ احسن اقبال نے کہا کہ ایک ملین نوجوانوں پر مشتمل سماجی متحرک کار نیٹ ورک اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے، صحت و غذائیت سے متعلق شعور اجاگر کرنے، منشیات اور تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی، صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے شجرکاری مہمات میں فعال کردار ادا کرے گا۔ دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے اپنی قوت، عزم اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلح افواج نے ملک کا کامیابی سے دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے دوران جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی تعمیری کردار ادا کیا، جبکہ مکہ دفاعی معاہدے نے خطے میں پاکستان کی حیثیت کو ایک اہم اور ذمہ دار ملک کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ دفاع اور سفارت کاری کے میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بعد اب ہمیں معرکۂ حق کی کامیابی کو معرکۂ ترقی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے سیاسی و سماجی استحکام، امن اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔ ابھرتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ قومی اتحاد، یکجہتی، امن اور ترقی کے ذریعے کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جس ملک میں اندرونی انتشار ہو وہاں پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ پاکستان کے ہر نوجوان کو امن کا محافظ بن کر ملک کے استحکام، اتحاد اور سلامتی کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔








