وزیراعظم عمران خان این آر او نہیں دیں گے ، شیخ رشید

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان حکومت این آر او نہیں دیں گے، سینٹ الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں کرائے جا سکتے ہیں، دھرنوں اور لانگ مارچ سے حکومتیں نہیں جاتیں، اپوزیشن نے اگر استعفے دینے ہیں تو تاخیر نہ کرے، اپوزیشن بند گلی میں داخل ہو رہی ہے، سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں …

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان حکومت این آر او نہیں دیں گے، سینٹ الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں کرائے جا سکتے ہیں، دھرنوں اور لانگ مارچ سے حکومتیں نہیں جاتیں، اپوزیشن نے اگر استعفے دینے ہیں تو تاخیر نہ کرے، اپوزیشن بند گلی میں داخل ہو رہی ہے، سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے، لاہوریوں نے پی ڈی ایم کو جلسے میں اچھا رسپانس نہیں دیا، پی ڈی ایم کی تحریک بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سینٹ الیکشن سے گھبرا رہی ہے، قانون نے اجازت دی تو سینٹ الیکشن وقت سے پہلے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے لاہور میں ہونے والے جلسہ متاثر نہیں کر سکا، جلسے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی، لاہوریوں نے پی ڈی ایم کو جلسے میں اچھا رسپانس نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم دو ماہ سے کہہ رہی تھی کہ 13 دسمبر کو جلسہ کرنا ہے، مریم نواز نے ایک ایک دن میں آٹھ، آٹھ کارنر میٹنگز کیں لیکن نتیجہ کچھ بہتر نہیں رہا، لاہور کے عوام نے ان کو مسترد کر دیا، مدرسے کے بچے نہ ہوتے تو جلسہ مکمل فلاپ تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن بند گلی میں داخل نہ ہو، سیاست ایک دن کا کھیل نہیں، سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے، عمران خان منتخب وزیراعظم ہیں، بات چیت صرف عمران خان سے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم والے عمران خان کو شکست نہیں دے سکتے، اپوزیشن نے اگر استعفے دینے ہیں تو ابھی دے، استعفے دینے میں تاخیر نہ کرے، ضروری نہیں استعفے آئیں تو اسی وقت منظور کر لئے جائیں ، استعفے قبول کرنے میں 6 ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ابھی استعفے دینے کا فیصلہ نہیں کیا، پیپلز پارٹی پنجاب میں اگلے الیکشن میں جگہ بنا سکتی ہے، بلاول بھٹو لاہور کی سیاست میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن قیادت کا مسئلہ کرپشن مقدمات ہیں، پی ڈی ایم کی تحریک بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگی، وزیراعظم عمران خان حکومت چھوڑ سکتے ہیں لیکن این آر او نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے لانگ مارچ کرنا ہے تو 25 دسمبر کو کر لیں، حکومت اسلام آباد میں پی ڈی ایم کا استقبال کرے گی، کچھ بھی ہو جائے مولانا فضل الرحمان کی دال نہیں گلنی۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ سے حکومت نہیں جاتی، پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کی اور 126 دن کا دھرنا دیا، اس وقت کی حکومت ان کے لانگ مارچ اور دھرنے سے نہیں گئی، آج بھی اگر پی ڈی ایم لانگ مارچ ، دھرنے یا جلسے کرتی ہے تو حکومت نہیں جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ ہم بھی اپوزیشن کو سرپرائز دیں گے، الیکشن کمیشن کے ساتھ مشاورت کے لئے رابطہ کریں گے، اگر کوئی آئینی صورت ممکن ہوئی تو سینٹ الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہاپوزیشن کو معلوم ہے کہ عمران خان سینٹ میں اکثریت لے جائیں گے، اپوزیشن سینٹ الیکشن سے پہلے ہنگامہ آرائی چاہتی ہے، سینٹ الیکشن میں اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کے ساتھ ٹکرائو اور اداروں کے خلاف بیان بازی کر کے کسی کو عزت نہیں مل سکتی، جنوری میں اچھی خبریں آئیں گی، حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے اداروں کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں، وزیراعظم کی آرمی چیف کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوتی ہیں، وزیراعظم نے پٹرول بحران پر کمیٹی تشکیل دی ، آٹا، چینی، پٹرول مافیاز کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔