وزیراعظم عمران خان مثبت سوچ لیکر آئے ہیں ‘ہر طبقے میں فرق ختم کرکے جمہوری اورفلاحی پاکستان کی بنیاد رکھی، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):اسلام آباد ۔ پٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان مثبت سوچ لیکر آئے ہیں ‘نئے پاکستان میں امیر غریب ‘رنگ و نسل اور ہر طبقے میں فرق ختم کرکے جمہوری اورفلاحی پاکستان کی بنیاد رکھی گئی ہے ‘عالمی برادری کو نہتے کشمیریوں پر ظلم اور بربریت پر اپنا دوہرا معیار ختم کرنا ہوگا ‘ بھارت کے اندر مسلمانوں اور …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):اسلام آباد ۔ پٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان مثبت سوچ لیکر آئے ہیں ‘نئے پاکستان میں امیر غریب ‘رنگ و نسل اور ہر طبقے میں فرق ختم کرکے جمہوری اورفلاحی پاکستان کی بنیاد رکھی گئی ہے ‘عالمی برادری کو نہتے کشمیریوں پر ظلم اور بربریت پر اپنا دوہرا معیار ختم کرنا ہوگا ‘ بھارت کے اندر مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ جوسلوک ہورہا ہے اس پر انسانی حقوق کے علمبرداروں کو نوٹس لینا چاہیئے ‘ اراکین پارلیمنٹ غلامانہ قوانین کو ختم کرکے موثر قانون سازی اور قانون کی بالادستی کے لئے جنگ لڑیں ‘ دنیا کو بتا دینا چاہتے کہ صرف آزادی اظہار رائے کہہ دینے سے انسانی حقوق پورے نہیں ہوتے اس کے لئے عملی اقدامات لازمی ہوتے ہیں ۔ وہ سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ (ایس ایس ڈی او) ‘ پارلیمنٹرین کمیشن برائے انسانی حقوق ‘ پارلیمنٹری ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) اور انٹرنیشنل پارلیمنٹری کانگریس کے اشتراک سے انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ پارلیمنٹ ‘ قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے عنوان سے قومی سیمنار سے خطاب کر رہے تھے ۔چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی‘ ایس ایس ڈی او کے سی ای او سید کوثر عباس ‘سینیٹر بیرسٹر سیف علی ‘ چیئرمین پارلیمنٹرین کمیشن فار ہیومین رائٹس چوہدری شفیق ‘اراکین پارلیمنٹ ‘غیر ملکی سفیروں ‘ آئی جی اسلام آباد عامر ذولفقار اور دیگر نے بھی سیمنار سے خطاب کیا ۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے کہا کہ 1400 سال پہلے حضورﷺ نے جب اسلام کی تبلیغ شروع کی تو انسانی حقوق کے لئے تمام تقسیم کو ختم کر دیا ‘ خطبہ حجتہ الوداع میں رنگ ‘نسل ‘مذہب ‘ عربی اور عجمی کا فرق ختم کیا ‘ تمام مسلمانوں کو واضح پیغام دیا کہ کوئی بھی کسی پر بالاتر نہیں ہے ‘ خصورﷺ نے انصاف کا معاشرہ قائم کیا اور انسانوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنے کا پیغام دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے برصیغر میںمسلمانوں کو بنیادی انسانی حقوق کے حصول میں مشکلات کو مد نظر رکھے ہوئے مسلمانوں کے لئے الگ ملک حاصل کیا ۔انہوں نے کہا کہ آج بھی ہمارے قانون میں غلامانہ نظام ہے ‘ اس کو تبدیل کرنے کے لئے تمام پارلیمنٹرین کا فرض ہے کہ قوانین میںبہتری لائیں ‘پیچیدگیاں ختم کر کے نئے قوانین کی طرف جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جو تبدیلیاں آرہیں ہیں اسکے مطابق قانون سازی کرتے ہوئے اپنے لوگوں کو تحفظ دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے سامنے اپنے آپ کو بڑی جمہوریت کہنے والے ہندوستان کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر دنیا خاموش ہے صرف وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کشمیریوں کی آواز بنا ہوا ہے ‘ اب دنیا کو دوہرا معیار بدل کر مسلمانوں کی آواز بھی سننا ہوگی ۔ایس ایس ڈی او کے سی ای او سید کوثر عباس نے کہا کہ حکومت ملک میں انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے لئے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے ‘اس کے لئے دیگر سٹیک ہولڈرز کی شمولیت بھی ضروری ہے ‘ ہر سطح پر انسانی حقوق کا خیال رکھنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرنی ہے جو میںہر شخص دوسرے کا خیال رکھے اور اپنی تمام تر ذمہ داریاں پورادا کریں ۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے کہا کہ آج کے دن کی مناسبت سے ہمیں سب سے پہلے سچ بولنا شروع کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ظلم اور بربریت کو آرٹس اور کلچرل سرگرمیوں کی شکل میں اپنی نئی نسل کو آگاہ کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے اس کے بعد دنیا مسئلہ کشمیر سے بہتر آگاہ ہوئی ہے اور اسے حقیقی مسئلہ سمجھا جارہا ہے ۔ممبر ٹاسک فورس کنول شوزب نے کہا کہ پچھلے اڑھائی سالوں کے دوران وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال بہترین رہی اس کا سہرا آئی جی اسلام آباد اور انکی ٹیم کو جاتا ہے ‘ قوانین پر عمل درآمد کے لئے پولیس کا اہم کردا ہے ‘ زینب الرٹ بل سمیت مختلف قوانین ہم نے ایوان سے منظور کرائے جو عمل درآمد کے مراحل میں ہیں ۔