اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے احساس راشن پورٹل، احساس لنگر، پناہ گاہ ایپس اور وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ ویب سائٹ سمیت دیگر (ویب سائٹس اور ایپس) کے احساس اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، ان اقدامات کا مقصد کووڈ۔19 سے متعلقہ ریلیف کے اقدامات کے سلسلہ میں حکومت اور سول سوسائٹی کے بہتر اشتراک کار اور تعاون کو یقینی بنانا ہے، ان اقدامات …
حکومت کووڈ۔19 سے متاثرہ معاشرے کے طبقات کی معاونت اور سپورٹ کیلئے عطیہ کئے گئے ہر ایک روپے کے حوالہ سے شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے،وزیراعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے احساس راشن پورٹل، احساس لنگر، پناہ گاہ ایپس اور وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ ویب سائٹ سمیت دیگر (ویب سائٹس اور ایپس) کے احساس اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، ان اقدامات کا مقصد کووڈ۔19 سے متعلقہ ریلیف کے اقدامات کے سلسلہ میں حکومت اور سول سوسائٹی کے بہتر اشتراک کار اور تعاون کو یقینی بنانا ہے، ان اقدامات کے آغاز کا بنیادی مقصد ڈونرز، فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ بااختیار بنانا ہے تاکہ کووڈ۔19 کی صورتحال میں وہ حکومت کے ساتھ مزید بہتر اشتراک کار کے تحت اقدامات کر سکیں۔ پیر کو یہاں اس حوالہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کووڈ۔19 سے متاثرہ معاشرے کے طبقات کی معاونت اور سپورٹ کیلئے عطیہ کئے گئے ہر ایک روپے کے حوالہ سے شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان متعلقہ ایپس اور ویب سائٹس کو لانچ کرکے شفافیت کے حوالہ سے ڈونرز کو اعتماد فراہم کر رہی ہے۔ نئی لانچ کی گئی پی ایم ویب سائٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس پر تمام مستفید ہونے والوں کی فہرست شائع کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ احساس پروگرام میں بھی شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور ان کی ٹیم کی احساس کیش پروگرام کو کامیاب بنانے کے حوالہ سے کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ پروگرام کے تحت رقوم کی شفاف اور مو¿ثر ترسیل کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل کے ان لمحات میں کیش پروگرام کے ذریعے مستحق افراد کو ضروری ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے وباءکے دوران روزگار کھو دینے والے طبقہ کی معاونت کیلئے احساس ویب پورٹل کی کامیابی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا جس کے ذریعے بے روزگار ہونے والوں کی مالی معاونت کی گئی ہے۔ وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ ویب سائٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سے مکمل معلومات دستیاب ہوں گی اور ڈونرز کو براہ راست مستحق افراد تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے پوری دنیا کو غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے حتیٰ کہ امریکہ میں عوام کو خوراک حاصل کرنے کیلئے لمبی قطاروں میںکھڑا ہونا پڑا جبکہ اٹلی میں بھی لوگوں کو خوراک کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر صوبے لاک ڈاﺅن کے آپشن پر غور کا کہیں گے تو میں اس کی حمایت نہیں کروں گا کیونکہ چین کے شہر ووہان کے مقابلہ میں یہاں پر مختلف صورتحال ہے۔ سندھ کے اپنے حالیہ دورہ کے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صرف لاڑکانہ میں متاثرین میں سے 20 فیصد کاروباری تھے جن کے کاروبار بند تھے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ میں وباءکی وجہ سے لاک ڈاﺅن کا فیصلہ گھبراہٹ میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی حکومت نے تمام تر اعداد و شمار کی روشنی میں بھارت میں مکمل لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا لیکن پھر بھی بھارت کی مزید 34 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی جن کو سخت اور مشکل معاشی صورتحال کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ہوٹلوں اور شادی ہالز سمیت سروس سیکٹر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے دنیا کی اولین فلاحی ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کو تبدیل کرنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں پہلی مرتبہ نظر انداز اور کمزور طبقات کی بہتری کے اقدامات پر توجہ دی گئی۔ پناہ گاہ کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل میں شیلٹر ہومز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ مستحق افراد کی ایک بڑی تعداد کو سہولت دی جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مزدور اور دوسرے کارکن روزگار کمانے کیلئے شہروںکا رخ کرتے ہیں اور رہائشی اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے وہ کھلے مقامات یا سڑکوں پر رات گزارتے ہیں جو تکلیف دہ بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گاہ قائم کرنے کا آئیڈیا ان کو سہولت فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے وزراءکو ہدایات دی ہیں کہ وہ ان مقامات کا دورہ کریں اور وہاں قیام کرنے والے افراد سے صورتحال معلوم کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے سمارٹ لاک ڈاﺅن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ متاثرہ افراد، بزرگ شہریوں اور وبائی امراض سے متاثرہ افراد کی زندگیاں بچانے کیلئے اس طرح کے اقدامات سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں تاہم واضح کیا کہ ٹائیگر فورس کے رضاکار ایسی صورتحال میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے۔








