کراچی ۔ 27 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال بہترین ہسپتال ہے جہاں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جاتا ہے، خیبرپختونخوا میں سرکاری ہسپتالوں کو بھی شوکت خانم کی طرز پر چلانے کے لئے اقدامات کئے، ان ہسپتالوں کو بھی نجی ہسپتالوں کی طرز پر کام کرنا چاہیے، شوکت خانم ہسپتال کے لئے جب فنڈ اکٹھا کرنے نکلا تو زندگی …
وزیراعظم عمران خان کا شوکت خانم کینسر ہسپتال کی فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
کراچی ۔ 27 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال بہترین ہسپتال ہے جہاں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جاتا ہے، خیبرپختونخوا میں سرکاری ہسپتالوں کو بھی شوکت خانم کی طرز پر چلانے کے لئے اقدامات کئے، ان ہسپتالوں کو بھی نجی ہسپتالوں کی طرز پر کام کرنا چاہیے، شوکت خانم ہسپتال کے لئے جب فنڈ اکٹھا کرنے نکلا تو زندگی کے بہترین انسانوں سے ملا، 70 کروڑ کا پراجیکٹ ایک دن بھی پیسے کی کمی کی وجہ سے نہیں رکا، پاکستان میں پیشہ ور لوگوں اور فراخدلی کی کمی نہیں، ایف بی آر اگر ماحول پیدا کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے لوگوں پر پیسہ خرچ کرنے کے لئے اکٹھا نہ کر سکیں، کراچی وہ شہر ہے جس نے ہمیشہ میری مدد کی، کراچی کا کینسر ہسپتال سب سے بڑا اور بہترین ہسپتال بنے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انسان کو مشکل حالات میں کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے، میں نے ماضی کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال کے لئے سب سے زیادہ عطیات متوسط طبقے نے دیئے، متوسط اور غریب طبقے کے افراد کا دل فیاضی کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے اور عطیہ وہی دیتا ہے جسے اللہ توفیق دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کامیاب انسان کو زندگی کے مشکل ترین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے مشکلات سے گھبرانے والے زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے، کامیابی کے لئے ہر مرحلے پر ہمت و حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ثابت قدمی کے ساتھ شوکت خانم ہسپتال لاہور کو سنٹر آف ایکسی لینس بنایا اور اپنے مشن پر گامزن رہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کینسر ہسپتال بنانے کے لئے جب میں نکلا تو دلچسپ تجربات سامنے آئے، کھلاڑی کے لئے کھیل کے میدان میں سوچ الگ ہوتی ہے کیونکہ جیت پر تعریف اور ہار پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کینسر ہسپتال کے لئے ایک منفرد سوچ تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ رفتہ رفتہ آگے بڑھا تو زندگی کے بہترین انسانوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ایسے امیروں کو جانتا ہوں جن کے پاس اربوں روپے ہیں لیکن دینے کی صلاحیت کسی کسی کے پاس ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی جا کر خیراتی کاموں میں سب سے آگے ہوتے ہیں، جب سڑکوں پر نکلا تو عام آدمی کی فراخدلی دیکھی، آخری چھ ماہ میں ہسپتال کو چلانے کے لئے 14 کروڑ روپے کی ضرورت تھی لیکن اکاﺅنٹ میں ایک کروڑ روپے پڑے تھے، ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر فیصل دونوں پریشان تھے جن کو دلاسہ دیا کہ اللہ تعالیٰ بہتری کرے گا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ پیسہ وہاں سے آئے گا جہاں سے سوچا بھی نہیں تھا اور لوگوں کی یہی فراخدلی ہے کہ ہسپتال میں 75 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہو رہا ہے، دنیا میں کوئی کینسر کا خیراتی ہسپتال نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک وہ وقت آیا جب 1997ءمیں پہلی مرتبہ الیکشن میں شکست کے بعد مخالف جماعت نے سارا حملہ ہسپتال پر کر دیا اور ہر طرف سے پیسہ آنا بند ہو گیا لیکن اس وقت بھی میں نے ہمت نہیں ہاری اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے تمام اخراجات پورے ہوئے اور یہ سب کچھ ہسپتال کا معیار امیر اور غریب کے لئے یکساں رکھنے کی بدولت ممکن ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کا کینسر کا ہسپتال سب سے بڑا اور بہترین ہسپتال بنے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پشاور میں مینجمنٹ سسٹم لانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی اسی وقت ملتی ہے جب مینجمنٹ میں بورڈ میں قابل لوگ بیٹھے ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں بہترین پروفیشنلز ٹیم موجود ہے اور ہر قسم کی سہولت بھی ہے۔ کراچی کے لوگ فراخدل ہیں، انہوں نے لاہور میں کینسر ہسپتال کے لئے بھی دل کھول کر تعاون کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس تقریب میں بھی میرے کچھ دوست بیٹھے ہیں جو اس وقت بھی میرے ساتھ تھے اور میری ہمت بندھاتے رہے، ان میں جاوید میانداد اور طارق شفیع شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جاوید میانداد جانتے ہیں کہ دو سال کرکٹ صرف کینسر ہسپتال کے لئے کھیلی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا کینسر ہسپتال ایک جدید ہسپتال ہو گا۔








