اسلام آباد ۔ 18ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کئی نسلوں سے کراچی میں بسنے والے بنگلہ دیشی مہاجرین کا معاملہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے‘ ہمیں ان کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑے گا اس کے لئے تمام فریقین سے مشاورت کریں گے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں اختر مینگل کی جانب سے نکتہ اعتراض پر وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر بنگلہ …
وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی میں اختر مینگل کے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کئی نسلوں سے کراچی میں بسنے والے بنگلہ دیشی مہاجرین کا معاملہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے‘ ہمیں ان کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑے گا اس کے لئے تمام فریقین سے مشاورت کریں گے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں اختر مینگل کی جانب سے نکتہ اعتراض پر وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر بنگلہ دیشی مہاجرین کو شہریت دینے کے حوالے سے بیان کا معاملہ اٹھایا گیا جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 1951ءکے قانون کے مطابق جو بچہ پاکستان میں پیدا ہوتا ہے اس کا حق ہے کہ اسے یہاں کی شہریت دی جائے۔ یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ یورپ سمیت دیگر ممالک میں بھی ایسا قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی طور پر ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کے لئے اور قانون ہے جو پچاس پچاس سالوں سے کراچی میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے بچے بھی یہاں پر پیدا ہوئے ہیں ان کو پاکستان کی شہریت نہیں مل رہی۔ ان کا استحصال ہو رہا ہے۔ میں نے جو بات کی تھی وہ صرف کراچی کے لئے تھی۔ ان کو نہ تو ہم نے شہریت دی ہے اور نہ ہی یہ واپس جاسکتے ہیں نہ ہم انہیں ملک سے باہر بھیج سکتے ہیں۔ وہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں اس لئے ان کا استحصال کیا جاتا ہے جہاں پر عام پاکستانی کو 20 ہزار میں نوکری دی جاتی ہے انہیں 10 ہزار روپے پر رکھا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ انسانیت کے تقاضے کی بنا پر یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ لوگ بھی انسان ہیں۔ اگر ہم ان سے متعلق آج فیصلہ نہیں کریں گے تو کب کریں گے۔ جو بچے یہاں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے وہ کہاں جائیں گے۔








