وزیراعظم عمران خان کا ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب

اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو ایک بار پھر بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنے چاہئیں، موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ بھارت عقل و حکمت سے کام لے کیونکہ دونوں ممالک جس طرح کے ہتھیاروں سے لیس ہیں، کسی غلط اندازے کے متحمل نہیں ہو سکتے، کشیدگی میں اضافہ …

اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو ایک بار پھر بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنے چاہئیں، موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ بھارت عقل و حکمت سے کام لے کیونکہ دونوں ممالک جس طرح کے ہتھیاروں سے لیس ہیں، کسی غلط اندازے کے متحمل نہیں ہو سکتے، کشیدگی میں اضافہ ہوا تو صورتحال قابو میں نہیں رہے گی، بھارت کو بتا دیا کہ ہم کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ اِدھر آ کر کارروائی کر سکتے ہیں تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔بدھ کو سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے گزشتہ روز سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کو پیش کش کی کہ ہم کسی بھی قسم کی تحقیقات کے لئے تیار ہیں۔ پلوامہ واقعہ میں ان کی ہلاکتیں ہوئیں اور مجھے پتہ ہے کہ ان کے لواحقین کو کیسی تکلیف پہنچی ہوگی کیونکہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ دس سال کے دوران 70 ہزار ہلاکتیں ہوئیں اور میں اس عرصے کے دوران کئی ہسپتالوں میں گیا ہوں اور وہاں متاثرہ مریضوں کو دیکھا ہے، کسی کی ٹانگیں نہیں اور کسی کی آنکھ ضائع ہو گئی، اس جنگ میں جو زخمی ہوتے ہیں ان پر اور ان کے اہل خانہ پر کیا گزرتی ہے اس کا بھی اچھی طرح احساس ہے، اس لئے ہم نے ہندوستان کو پیشکش کی کہ وہ کسی طرح کی بھی تحقیقات چاہتے ہیں تو پاکستان پوری طرح تیار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ پاکستان کے مفادمیں نہیں ہے کہ ہماری زمین دہشت گردی کے لئے استعمال کی جائے یا کسی اور ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد ہم جب پوری طرح تعاون کے لئے تیار تھے لیکن مجھے خدشہ تھا کہ اس کے باوجود ہندوستان کوئی ایکشن لے گا اور اسی لئے ہم نے کہا کہ جواب دینا ہماری مجبوری ہوگی کیونکہ کوئی بھی ملک کسی ملک کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کی سرحدوںکے اندر کارروائی کرے اور خود ہی جج بن کر فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں الیکشن کی وجہ سے مجھے خدشہ تھا کہ بھارت کارروائی کر سکتا ہے، لہذا میں نے بھارت سے کہا کہ ہمیں جوابی کارروائی کرنا پڑے گی، 26 فروری کی صبح بھارت کی طرف سے جو کارروائی کی گئی اس کے بعد میری آرمی چیف اور ایئر چیف سے مشاورت ہوئی۔ ہم نے اس لئے فوری ایکشن نہیں لیا کیونکہ ہمیں پوری طرح پتہ نہیں تھا کہ اس کارروائی سے پاکستان میں کس طرح کا نقصان ہوا ہے، اگر ہم ایکشن لیتے اور ہندوستان کا جانی نقصان کر دیتے جبکہ ہماری طرف کوئی نقصان نہ ہوا ہوتا، اس لئے ہم نے فوری کارروائی نہیں کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد بھارت کو یہ بتانا تھا کہ ہم کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر آپ ہمارے ملک میں آ کر کارروائی کر سکتے ہیں تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی سرحد کی خلاف ورزی کی تو ہم نے اس کا جواب دیا اور اس کے طیارے مار گرائے، ان کا پائلٹ ہمارے پاس ہے۔ انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہت ضروری ہے کہ ہم اس موقع پر عقل اور حکمت کو بروئے کار لائیں، دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ جنگ شروع کر رہے تو یہ کہاں تک جائے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جو چند ہفتوں اور مہینوں میں ختم ہونے کا اندازہ تھا، وہ برسوں تک چلیں اور اس میں بہت تباہی ہوئی۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا نے یہ نہیں سوچا ہو گا کہ وہ سترہ سال تک افغانستان میں پھنسے رہیں گے، اسی طرح ویتنام میں ہوا کیونکہ جنگوں میں غلط اندازے لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے بھارت سے سوال کیا کہ جو ہتھیار ان کے پاس ہیں اور ہمارے پاس ہیں، کیا ہم کسی غلط اندازے کے متحمل ہو سکتے ہیں، کشیدگی میں اضافہ ہو گا تو صورتحال میرے یا نریندر مودی کے قابو میں نہیں رہے گی۔ وزیراعظم نے بھارت کو دعوت دی کہ پلوامہ واقعہ کے بعد دہشت گردی کے معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔ انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ہمیں اس وقت بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنے چاہئیں۔

Leave a Reply