وزیراعظم عمران خان کو مہنگائی کے باعث عام آدمی کو پیش آنے والی مشکلات کا شدت سے احسا س ہے،صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا ایبٹ آباد پریس کلب کی تقریب سے خطاب

ایبٹ آباد۔ 24 فروری (اے پی پی) خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ اگرچہ ملک میں پائی جانے والی مو جودہ گرانی سابق حکمرانوں کی ذاتی مفادات پر مبنی پالیسیوں اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کو مہنگائی کے باعث عام آدمی کو پیش آنے والی مشکلات کا شدت سے احسا س ہے اور وہ ان مشکلات …

ایبٹ آباد۔ 24 فروری (اے پی پی) خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ اگرچہ ملک میں پائی جانے والی مو جودہ گرانی سابق حکمرانوں کی ذاتی مفادات پر مبنی پالیسیوں اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کو مہنگائی کے باعث عام آدمی کو پیش آنے والی مشکلات کا شدت سے احسا س ہے اور وہ ان مشکلات کو جلد دور کرنے کیلئے سخت معاشی فیصلوں کے علاوہ فوری ریلیف کے اقدامات بھی کر رہے ہیں، قبائلی علاقوں کے صوبہ کے ساتھ انضمام اور معاشی و مالی مشکلات کے باوجود خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں ترقی اور اصلاحات کا عمل اپنی پوری رفتار سے جاری ہے، ضم شدہ اضلاع میں بنیادی ڈھانچہ کے قیام سمیت ہزارہ اور ملاکنڈ میں سیاحت، معدنیات اور بجلی کی پیداوار کے شعبوں کی ترقی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت ایک صحافی دوست حکومت ہے جو صحافیوں کو درپیش مسائل اور مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے، خیبر پختونخوا میں موجودہ صوبائی حکومت نے صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کی مستقل بنیادوں پر فلاح و بہبود اور سہولیات کیلئے قانون سازی تک کی ہے۔ وہ گذشتہ شام ایبٹ آباد پریس کلب کی 40 سالہ تقریبات کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب میں مہمان خصو صی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر مشتاق احمد غنی، صوبائی وزیر خوراک الحاج قلندر خان لودھی، سینیٹر شبلی فراز، رکن قومی اسمبلی علی خان جدون، پی ٹی آئی کے صوبائی جنر ل سیکرٹری علی اصغر خان، ملک بھر سے آ ئے ہوئے بعض پریس کلبوں اور میڈیا تنظیموں کے عہدیداروں نے بھی خطاب کیا۔ وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان مستحکم معیشت کو ملک کے عوام کی پائیدار بنیادوں پر خو شحالی کی ضمانت سمجھتے ہیں، اس ضمن میں وزیراعظم نے مشکل لیکن جرا¿ت مندانہ فیصلے کئے جن کی توفیق کسی سابق حکمران کو نہیں ہوئی، آج پی ٹی آئی حکومت کے فیصلوں کو ہدف تنقید بنانے والے وہ عناصر ہیں جنہوں نے ماضی میں ملک کے خزانے پر ہاتھ صاف کر کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محرومی اور معاشی مشکلات سے دوچار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک چھو ٹا طبقہ بے تحاشا قرضے لےنے کے بعد ملک کو لوٹنے کے بعد چھوڑ کر چلا گیا ہے، ملک سے بھاگنے والوں نے مولانا فضل الرحمن کو حکومت کے خلاف آ گے کیا لیکن وہ بھی بدترین ناکامی کے باعث واپس چلا گیا، مسلم لیگ (ن) نے 19 ارب ڈا لر کے قرضے لئے جن کی موجو دہ دور میں واپسی سے عوام کو مہنگائی جیسی مشکلات دیکھنی پڑ رہی ہے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ موجودہ معاشی مشکلات کے اثرات بلاشبہ عام آدمی پر پڑ رہے ہیں لیکن اس مشکل صورتحال میں بھی ملک کا غریب اور متوسط طبقہ صبر کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ اس طبقہ کو وزیراعظم کی ایمانداری، دیانتداری، اہلیت اور غریب دوستی پر یقین ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات آئندہ چار چھ ماہ میں بہتری کی جانب گامزن ہوں گے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت بھی پیچھے مڑ کر دیکھنے والی نہیں اور یہ حکومت وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں پورے عزم اور یکسوئی کے ساتھ آگے کی جانب رواں دواں ہے، اسمبلی کے اندر اور باہر اپوزیشن کے تمام تر اور بلاجواز حربوں کے باوجود ہم صوبہ کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ صوبہ کے عوام کی غالب اکثریت نے پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی حکومت کو مسلسل دوسری بار منتخب کیا ہے اور عوام کے اس بھرپور اعتماد کو ہم کیسے ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کا مقصد غربت کا خاتمہ ہے اور کامیاب جوان پروگرام کے تحت بھی تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانون کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے مالی وسائل کی فراہمی کے علاوہ دیگر اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ تر قیاتی پروگرام کسی تعطل یا رکاوٹ کے بغیر جاری ہے، ضم شدہ اضلاع کی ترقی گو کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے لیکن اس ترجیح میں دیگر علاقوں کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ میں سیاحت کی ترقی کے وسےع امکانات اور مواقع موجود ہیں اس لئے اس شعبہ میں ہزارہ اور ملاکنڈ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، خیبر پختونخوا حکومت صنعتوں کو بہت کم نرخوں پر بجلی فراہم کرے گی جس سے صنعتوں کے ذریعہ بے روزگاری کم ہو گی جبکہ سی پیک بھی ہزارہ سمیت پورے صوبہ کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، افغانستان میں متوقع امن معاہدہ کا سب سے بڑا فائدہ بھی خیبر پختونخوا کو ہو گا۔ موجودہ حکومت کی جانب سے صحافیوں کیلئے فراہم کی جانے والی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ آئندہ صوبہ کے تمام پریس کلبوں کو درجہ بندی کے اعتبار سے فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کی جانب سے ایبٹ آباد پریس کلب کیلئے اعلان کردہ گرانٹ کی رقم کی جلد ادائیگی اور میڈیا کالونی کے قیام کی کوششوں کا بھی یقین دلایا۔

مزید خبریں