اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تہذییوں کا گہوارہ اور تین بڑے مذاہب بدھ مت، سکھ ازم اور ہندو مت کے پیروکاروں کیلئے مقدس مقام ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو یہاں بدھ مت کے راہبوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ بدھ مت کے راہبوں کے وفد کی قیادت بدھ مت کے مذہبی پیشوا اور جنوبی …
وزیراعظم عمران خان کی بدھ مت کے راہبوں سے ملاقات کے دوران گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تہذییوں کا گہوارہ اور تین بڑے مذاہب بدھ مت، سکھ ازم اور ہندو مت کے پیروکاروں کیلئے مقدس مقام ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو یہاں بدھ مت کے راہبوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ بدھ مت کے راہبوں کے وفد کی قیادت بدھ مت کے مذہبی پیشوا اور جنوبی کوریا کے جوگئے آرڈر کے صدر وان ہینگ کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے عظیم تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی ورثہ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تہذییوں کا گہوارہ اور تین بڑے مذاہب بدھ مت، سکھ ازم اور ہندو مت کے پیروکاروں کیلئے مقدس اور قابل احترام مقام ہے۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور تمام مذاہب کیلئے احترام کے حکومتی عزم کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو بدھ مت کے ثقافتی ورثہ پر فخرہے، پاکستان کی موجودہ حکومت نے سیاحت بالخصوص مذہبی سیاحت کے فروغ پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی کوریا کو بدھ مت کے تاریخی مقامات کی حفاظت اور فروغ کیلئے تعاون میں اضافہ کرنا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جنوبی کوریا کے بدھ راہبوں کے دورہ پاکستان سے امن اور تمام مذاہب کے مابین ہم آہنگی کے مشترکہ پیغام کو اجاگرکرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں باباگرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور صاحب راہداری کا افتتاح کیا ہے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ جوگئے آرڈر کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے عوام اورگندھارا تہذیب کے دور سے تاریخی و تہذیبی رابطوں کو اجاگرکرنے میں مدد ملے گی۔ بدھ مت کے مذہبی پیشوا اور جنوبی کوریا کے جوگئے آرڈر کے صدر وان ہینگ نے بدھ مت کے تاریخی ورثہ کی حفاظت کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی امن کیلئے کوششوں پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جنوبی کوریا میں پاکستان میں بدھ مت کے ورثہ کے فروغ اور یاتریوں کو پاکستان میں بدھ مت کے تاریخی آثار کی یاترا کیلئے پاکستان کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش بھی ظاہرکی۔








