اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) اقتدار کے 2 سالہ سفر کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے جماعتی سطح پر بھی بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، بطور سیاسی جماعت متعدد سنگ میل عبور کرتے ہوئے جدید آئین اور ملک بھر میں نئے تنظیمی ڈھانچے کھڑے کرنے والی پہلی جماعت بن گئی۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی بطور وزیراعظم حلف برداری کے 2 برس مکمل ہونے پر …
وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کے 2 برس مکمل ہونے پر پاکستان تحریک انصاف نے جماعتی سرگرمیوں اور کارکردگی کا خلاصہ جاری کردیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) اقتدار کے 2 سالہ سفر کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے جماعتی سطح پر بھی بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، بطور سیاسی جماعت متعدد سنگ میل عبور کرتے ہوئے جدید آئین اور ملک بھر میں نئے تنظیمی ڈھانچے کھڑے کرنے والی پہلی جماعت بن گئی۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی بطور وزیراعظم حلف برداری کے 2 برس مکمل ہونے پر پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ نے جماعتی سرگرمیوں اور کارکردگی کا خلاصہ جاری کیا اور قوم کو بتایا کہ حکومت سازی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کو ازسرِنو منظم اور تنظیمی ڈھانچوں کی تنظیم نو کا ہدف مقرر کیا تھا چنانچہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں تحریک انصاف کو جدید سیاسی جماعت کی صورت میں ڈھالنے کے عمل کا باضابطہ آغاز کیا گیا اور حصولِ اقتدار کے باوجود پاکستان تحریک انصاف جماعتی سطح پر خود کو منظم اور متحرک رکھنے میں کامیاب رہی۔ اس کے ساتھ اس عرصہ کے دوران ادارہ سازی کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے جماعتی آئین منظور اور اسے نافذ کیا گیا اور جماعتی آئین کی رو سے جماعتی اور حکومتی عہدوں کے مابین تفریق پیدا کی گئی اور حکومتی عہدوں پر متمکن شخصیات سے جماعتی عہدے واپس لئے گئے۔ مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے اعلامیے کے مطابق جماعتی نظم اور اندرونی احتساب یقینی بنانے کیلئے نہایت طاقتور اور بااختیار ادارہ قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب (سکیڈ) کی شکل میں فعال کیا گیا جبکہ قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب نے جماعتی قانون و قواعد کی روشنی میں نظم کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کیخلاف کارروائیوں کا آغاز کیا۔ اسی طرح رکنیت سازی اور جماعت کے اندرونی انتخابات کا پورا عمل مرتب کیا گیا اور آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن قائم کیا گیا۔ ان 2 برسوں کے دوران ملک بھر میں ریجنز کی سطح پر تنظیم سازی مکمل کی گئی جبکہ مرکزی و شمالی پنجاب میں وارڈ کی سطح تک تنظیمی ڈھانچے قائم کرتے ہوئے دیگر ریجنز کے ذمہ داران کو جلد از جلد نچلی ترین سطح تک تنظیمیں قائم کرنے کا ہدف سونپا گیا۔ مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے اعلامیہ میں پاکستان تحریک انصاف کی بیرونِ ملک سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران کیپیٹل ون ایرینا میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہزاروں پاکستانیوں کا اجتماع منعقد کیا گیا۔ اقتدار کے ان 2 برسوں کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے غیر ملکی سیاسی تنظمیوں خصوصاً چین، ترکی اور ملائشیاءکی حکمران جماعتوں سے فعال روابط کا آغاز کیا اور سابق مرکزی سیکرٹری جنرل ارشد داد کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی دعوت پر چین کا دورہ کیا اور قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اسی طرح چینی کمیونسٹ پارٹی کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان آیا اور چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی سے خصوصی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعاون و اشتراک آگے بڑھانے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق چینی کمیونسٹ پارٹی کی دعوت پر پاکستان تحریک انصاف کے مختلف شعبہ جات اور برادر تنظیمات سے دوسری درجے کے ذمہ داران نے مختلف موضوعات پر آگاہی کیلئے چین کا سفر کیا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے عمائدین کیطرح ملائشیا کی حکمران جماعت برساتو کے مرکزی سیکرٹری جنرل مرزوقی یحییٰ بھی اپنے وفد کے ہمراہ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ تشریف لائے اور مرکزی سیکرٹری جنرل عامر محمود کیانی سے ملے جبکہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ملائشیاء کے دوران پاکستان تحریک انصاف اور برساتو کے مابین تعاون و اشتراک کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ تنظیم سازی کے باب میں پاکستان تحریک انصاف نے نئے جماعتی آئین کی روشنی میں تمام شعبہ جات اور برادر تنظیمات کے تنظیمی ڈھانچے از سر نو قائم کئے اور ان شعبہ جات اور برادر تنظیمات کی مو¿ثر فعالیت کیلئے خصوصی بائی لاز تیار کرکے انہیں لاگو کیا گیا۔ مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے اعلامیہ میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد قبائلی علاقوں میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے انتخابات کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا ہے جس میں تحریک انصاف نے بھرپور حصہ لیا اور نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دوسری طرف گلگت بلتستان میں انتخابات میں حصہ لینے کیلئے بھی جماعتی سطح پر باضابطہ سرگرمیوں کا آغاز کیا جاچکا ہے اور گلگت بلتستان میں امیدواروں کے چناو¿ کیلئے مکمل طور پر بااختیار خصوصی پارلیمانی بورڈ قائم کیا جاچکا ہے۔ اسی طرح آزادجموں و کشمیر میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے بنیادی اصول طے کئے گئے ہیں جن کی روشنی میں انتخابات کا اعلان ہوتے ہی بھرپور انتخابی مہم چلائی۔








