اسلام آباد ۔ 8 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کے لئے روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا کرنے کے لئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے، سرکاری شعبہ کے اداروں کی اصلاحات کا عمل تیز کیا جانا چاہئے، سبسڈیز کی فراہمی کے عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے، موجودہ دور کے اقتصادی چیلنجوں سے …
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کے لئے روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا کرنے کے لئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے، سرکاری شعبہ کے اداروں کی اصلاحات کا عمل تیز کیا جانا چاہئے، سبسڈیز کی فراہمی کے عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے، موجودہ دور کے اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مسائل کے مکمل حل کی ضرورت ہے، عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لئے کوششیں کی جانی چاہئیں، آئندہ سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے ترجیحات اور اہداف واضح ہونے چاہئیں اور منصوبے محض شروع کرنے کی بجائے ان کی تکمیل پر توجہ دی جانی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں معاشی صورتحال اور معیشت کے مستقبل کے منظر نامے کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وزارت خزانہ کی طرف سے رواں مالی سال کے پچھلے 9 ماہ کے دوران مختلف میکرو اقتصادی اشاریوں کی کارکردگی اور مجموعی معاشی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو کورونا وائرس کی صورتحال کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بتایا گیا۔ اجلاس میں غریبوں اور معاشرے کے کمزور طبقات اور کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے شدید متاثر ہونے والے معیشت کے مختلف شعبوں کی مدد کے لئے حکومت کی طرف سے اعلان کردہ 1.25 ٹریلین روپے کے اقتصادی پیکیج کی پیشرفت اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ موجودہ مالی سال کے پچھلے 9 ماہ کے دوران مختلف معاشی اشاریوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کورونا وائرس کی صورتحال کے دوران مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور ریلیف کی فراہمی کے لئے وزارت خزانہ کی کوششوں کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبہ کی مدد پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے تاکہ انہیں لوگوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاشی وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لئے سرکاری شعبہ کے اداروں میں اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈیز کی فراہمی کے عمل پر بھی نظرثانی کی جائے تاکہ انہیں مزید موثر اور فائدہ مند بنایا جا سکے۔ مستقبل کے اقتصادی منظرنامے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لئے کوششیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کی ترجیحات اور اہداف واضح کئے جانے چاہئیں اور محض منصوبے شروع کرنے کی بجائے ان کی تکمیل پر توجہ دی جانی چاہئے۔ وزیراعظم نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لئے سرکاری اور نجی شراکت کے ماڈل کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔







