اسلام آباد ۔ یکم جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عام آدمی کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ عوام کے ساتھ ظلم ہے، ملاوٹ کے نتیجہ میں سنگین امراض کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، ملاوٹ کے خاتمہ کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے، ملاوٹ …
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عام آدمی کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ عوام کے ساتھ ظلم ہے، ملاوٹ کے نتیجہ میں سنگین امراض کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، ملاوٹ کے خاتمہ کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے، ملاوٹ کے مرتکب عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ایسے عناصر کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جائے، بڑے شہروں میں ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک بھر میں اشیائے ضروریہ (آٹا، چاول، گھی، چینی، دالیں، سبزی وغیرہ) کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، معاون خصوسی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، وفاقی سیکرٹریز، پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ کے چیف سیکرٹریز اور دیگر سینئر افسران شریک تھے۔ اجلاس میں وفاقی حکومت میں رائج ”درست دام” ایپلیکیشن کے نظام کو صوبوں کے بڑے شہروں میں متعارف کرانے میں پیش رفت، دودھ، ملاوٹ، خوردنی تیل، گوشت، مصالحوں اور دالوں، چائے کی پتی و دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کے خلاف کریک ڈائون، اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد پر نظر رکھنے اور مستقبل کی ضروریات کو مد نظر تخمینوں کے حوالے سے خصوصی سیل کے قیام، اجناس کی براہ راست فروخت اور کسانوں کی سہولت کے لئے تحصیل کی سطح پر ”کسان مارکیٹ” کے قیام کے حوالے سے پیش رفت اور شہری اور دیہی علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ جیسے معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے بتایا کہ عوام کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لئے وفاقی دارالحکومت کی طرز پر ”درست دام” ایپلیکیشن جنوری کے پہلے ہفتے میں پشاور، مردان اور ایبٹ آباد میں شروع کر دی جائے گی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے بتایا کہ اشیائے خورد و نوش ملاوٹ کے خلاف کریک ڈائون کے حوالے سے صوبے بھر سے 2111 نمونے اکٹھے کئے گئے جن کو حکومت کی جدید لیبارٹریز اور پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے ذریعے چیک کرایا گیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق دودھ میں شہری علاقوں میں 44.2 فیصد پانی کی ملاوٹ جبکہ دیی علاقوں میں 50.5 فیصد ملاوٹ پائی گئی۔ دودھ میں کیمیکل ملانے کا تناسب شہری علاقوں میں 3.14 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں تقریباً ایک فیصد پایا گیا۔ خوردنی تیل میں فری فیٹی ایسڈ کی ملاوٹ شہری علاقوں میں 75 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 60.71 فیصد پائی گئی۔ کم عمر اور بیماری زدہ گوشت کی شرح شہری علاقوں میں 1.71 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 2.85 فیصد پائی گئی۔ گوشت میں پانی اور کلر (رنگ) ملانے کی شرح شہری علاقوں میں تقریباً تین فیصد جبکہ یہ دیہی علاقوں میں یہ شرح دس فیصد سے زائد پانی گئی۔ مصالحوں میں رنگ کی شرح شہری علاقوں میں 20 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں تقریباً 9 فیصد پائی گئی۔ چائے کی پتی میں رنگ و دیگر ملاوٹی اجزء کی شرح شہری علاقوں میں تقریباً 30 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح تقریباً 25 فیصد پائی گئی۔ دالوں میں کلر (رنگ)، دیگر بیج اور ریت و پتھر کی ملاوٹ کی شرح تقریباً 4 فیصد کے لگ بھگ پائی گئی۔ دیگر صوبائی چیف سیکرٹریز کی جانب سے بھی اسی طرح کے اعداد و شمار اجلاس میں پیش کئے گئے۔ وزیراعظم نے اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملاوٹ کے مرتکب عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ایسے افراد محض چند سکوں کے عوض عوام کی زندگیوں اور صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں، ایسے عناصر کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جائے۔ڈاکٹر کاظم نیاز نے بتایا کہ صوبائی حکومت ملاوٹ کے تدارک کے لئے منظم حکمت عملی کے تحت اس مہم کو آگے بڑھا رہی ہے جس میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان کو آرڈینیشن و معاونت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اس ضمن میں عوام میں آگاہی کے لئے بھی بھرپور تشہیری مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، اس سلسلے میں تعلیمی اداروں میں سپیشل کلاسز کا آغاز کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ دیگر قانون اور انتظامی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے بتایا کہ ملاوٹ کے خلاف اقدامات کو مزید منظم کرنے کے لئے ٹیکنالوجی اور جیو ٹیگنگ کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، اشیاء کے معیار کے تعین پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ملاوٹ کے خلاف انتظامی اقدامات پر بریف کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے بتایا کہ اب تک صوبے بھر میں 20 ہزار انسپیکشن کی جا چکی ہیں جن کے نتیجے میں تقریباً ساڑھے تین ہزار نوٹسز کا اجراء جبکہ تقریباً 70 لاکھ جرمانہ کیا جا چکا ہے، تقریباً دو لاکھ کلو گرام/لیٹر اجناس کو تلف کیا گیا جبکہ چار سو مقامات کو سیل کیا گیا۔ دیہی اور شہری علاقوں میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر قیمتوں میں استحکام آیا جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں باسمتی چاول کی قیمت میں 16 روپے کمی، پاکستانی ٹماٹر کی قیمت میں 55 روپے، دال ماش کی قیمت میں تقریباً دو روپے کمی واقع ہوئی ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں 28 اضلاع میں 73 کسان مارکیٹیں قائم کی جا چکی ہیں جہاں کسان براہ راست اپنی فصل فروخت کرتے ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان نے بتایا کہ اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد اور تخمینوں کے حوالے سے وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں کمیٹی قائم کی جا چکی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے دسمبر میں 29500 مقامات کی انسپیکشن کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ٹماٹر، آلو اور پیاز کی قیمتیں کم ہوئی ہیں جبکہ آٹا، چاول، خوردنی تیل، دالوں اور چینی کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ گزشتہ ماہ برائلر چکن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بنیادی وجہ طلب میں اضافہ اور موسمی حالات تھے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ ٹماٹر کی قیمتوں میں 40 روپے کمی، آلو کی قیمت میں 12، دال اور چاول کی قیمتوں میں 2 سے 3 تین روپے کمی واقع ہوئی جبکہ دیگر چیزوں کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ اشیاء کی قیمتوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے اور گراں فروشی پر قابو پانے کے لئے راولپنڈی میں ”قیمت” ایپلیکیشن شروع کی جا چکی ہے۔ قیمت ایپلیکیشن اب تک چھ لاکھ افراد ڈائون لوڈ کر چکے ہیں، اس ایپلیکیشن پر شکایات کے ازالے کی شرح 99 فیصد رہی ہے، اس ایپلیکیشن کی بدولت دو گھنٹے میں شکایات کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ عوام کی دہلیز تک اشیائے ضروریہ پہنچانے کے حوالے سے آن لائن ہوم ڈیلیوری سسٹم کا راولپنڈی سے باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ پنجاب کے 19 اضلاع میں 32 ماڈل بازار قائم کئے جا چکے ہیں جبکہ 95 تحصیلوں میں جگہوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ فروٹ اور سبزیوں کے ضمن میں لاہور اور فیصل آباد میں گریڈنگ سسٹم شروع کیا جا چکا ہے جس کو بتدریج پورے صوبے میں نافذ کیا جائے گا۔ قیمتوں پر قابو پانے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈائون کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس ضمن میں فروٹ اور سبزی مارکیٹوںمیں آر ایف آئی ڈی سسٹم (ریڈیو فریکوئنسی آئیڈینٹی فیکیشن)، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور پرائس مجسٹریٹس کی کارکردگی کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزی پر موثر قابو پانے کے لئے صوبے میں موجود اجناس کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے اور اس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ اب تک 82 کسان مارکیٹوں کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹری صنعت بلوچستان نے بھی قیمتوں کو قابو میں رکھنے، ملاوٹ کے خلاف کریک ڈائون اور دیہی و شہری علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے اقدامات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ وزیراعطم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور ان کو نیچے لانے کے لئے جہاں موثر انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے وہاں طلب و رسد کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت منصوبہ بندی از حد ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے، طلب و رسد کا فرق مٹانے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کرنے اور خصوصاً ملاوٹ جیسی روش کا تدارک کرنے کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ان امور پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ ملاوٹ کی شرح پر سخت تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملاوٹ عوام کے ساتھ ظلم ہے، ملاوٹ کے نتیجہ میں سنگین امراض کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، بدقسمتی سے اس کے تدارک کے پہلو کو ماضی میں یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملاوٹ کے خاتمہ کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بڑے شہروں میں ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ ہر ہفتے اس حوالے سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی زندگیوں سے براہ راست متعلقہ مسائل کے حل کے ضمن میں صوبائی حکومتوں کے تجربات کا تبادلہ خیال نہایت کار آمد مشق ہے جسے باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔








