وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کی نگرانی کیلئے قائم پالیسی کمیٹی کا اجلاس، فنڈ کے استعمال کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کے 4.8 ارب روپے کے اخراجات شفافیت کی اعلیٰ مثال ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پیر کو وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کی نگرانی کیلئے قائم پالیسی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں فنڈ کے استعمال کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ فنڈ کووڈ۔19 متاثرین کیلئے فنڈز اکٹھے کرنے کیلئے مارچ 2020کو قائم کیا گیا تھا۔ کورونا ریلیف فنڈ میں …

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کے 4.8 ارب روپے کے اخراجات شفافیت کی اعلیٰ مثال ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پیر کو وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کی نگرانی کیلئے قائم پالیسی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں فنڈ کے استعمال کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ فنڈ کووڈ۔19 متاثرین کیلئے فنڈز اکٹھے کرنے کیلئے مارچ 2020کو قائم کیا گیا تھا۔ کورونا ریلیف فنڈ میں ملک اور بیرون ملک سے مخیر حضرات کی جانب سے 4.8 ارب روپے عطیہ کئے گئے ہیں جن میں سے 1.08 ارب روپے بیرون ملک جبکہ 3.8 ارب روپے اندرون ملک سے عطیہ کئے گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے رواں سال کے آغاز پر اس فنڈ کے استعمال کے تناظر میں دو پالیسیاں اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا کہ اس فنڈ کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت ملازمتوں سے محروم ہونے والے کورونا متاثرین میں تقسیم کیا جائے گا جبکہ دوسری پالیسی میں یہ کہا گیا تھا کہ ایک روپیہ فنڈ جمع ہونے پر چار روپے حکومت کی جانب سے فراہم کئے جائیں گے۔ حکومت کی جانب سے اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے اس فنڈ میں 19.55 ارب روپے جمع کرائے گئے ہیں جس سے فنڈ کی مجموعی رقم 24.23 ارب روپے ہو گئی ہے، اس رقم سے 20 لاکھ خاندانوں کی مدد کی گئی ہے جن کو فی خاندان 12 ہزار روپے نقد رقم احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے ذریعے فراہم کی گئی ہے، یہ خاندان احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے ذریعے نقد رقم وصول کرنے والے ڈیڑھ کروڑ خاندانوں سے الگ ہیں۔ ماضی میں مخیر حضرات کے فنڈز استعمال کرنے میں کم شفافیت تھی تاہم وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ نے شفافیت کی نئی مثال قائم کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی سب سے زیادہ خیرات دینے والی قوم ہے، میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ہم تمام مخیر حضرات کی جانب سے دیئے گئے گئے یہ فنڈز شفاف طریقہ سے استعمال کر رہے ہیں۔ تخفیف غربت اور سماجی تحفظ ڈویژن کو اس فنڈ کے استعمال کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس فنڈ کی نگرانی یقینی بنائی گئی ہے۔ وزیراعظم نے مستحقین کی شناخت کے وسائل سمیت دیگر طریقہ کار کی نگرانی کیلئے پالیسی کمیٹی بنائی ہے، پالیسی کمیٹی ان فنڈز کی تقسیم سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے اور فنڈز کے انتظام، اس سے متعلقہ امور اور عطیات جمع کرنے کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔