وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے زائرین کی سہولت کے لئے فیری سروس شروع کرنے،وفاقی دارالحکومت کیلئے کیپیٹل ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور اسلام آباد کے مختلف زونز میں غیر قانونی سوسائٹز میں ہونے والی تعمیرات، گیس اور بجلی کے کنکشن پر عائد پابندی اٹھانے کے لئے کمیٹیوں کے قیام اور بہترین کارکردگی پر ایم ڈی بیت المال کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دیدی …

اسلام آباد ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے زائرین کی سہولت کے لئے فیری سروس شروع کرنے،وفاقی دارالحکومت کیلئے کیپیٹل ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور اسلام آباد کے مختلف زونز میں غیر قانونی سوسائٹز میں ہونے والی تعمیرات، گیس اور بجلی کے کنکشن پر عائد پابندی اٹھانے کے لئے کمیٹیوں کے قیام اور بہترین کارکردگی پر ایم ڈی بیت المال کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دیدی ہے، نیپرا نے سالانہ رپورٹ کابینہ کو پیش کی جس کے مطابق کم کارکردگی والے پاور پلانٹس کو بند کیا جا رہا ہے، کابینہ نے حالیہ بارشوں کے نتیجہ میں ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان خصوصاً اندرون سندھ میں ہونے والی تباہ کاریوں اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا، وزیرِاعظم نے این ڈی ایم اے کو ذمہ داری سونپی ہے کہ صوبائی حکومتوں سے مل کر ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ متاثرین کو ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان اور کراچی کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے حوالہ سے وفاقی حکومت کی معاونت پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت کے لئے انجن آف گروتھ کا کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے۔ لہذا وفاقی حکومت کراچی کے مسائل کے حل کے ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پر عزم ہے۔ وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کے بقایا جات کے ضمن میں 1.16ارب روپے تھے۔ وزیرِاعظم کی ہدایت پر تمام سرکاری محکموں کی جانب سے ادائیگی کا عمل شروع کیا گیا ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اب تک ایک ارب سے زائد رقم ادا کی جا چکی ہے ۔ کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے دائرہ اختیار میں توسیع کرنے کی منظوری دی۔ اس کے تحت کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس امر کا جائزہ لے کہ مجوزہ قانون یا موجود قانون میں مجوزہ ترمیم دیگر قوانین اور آئین سے مطابقت رکھتی ہے اورپارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی اس امر کے حوالے سے بھی سفارشات پیش کرے گی کہ کسی نئے قانون ، قواعد یا موجود قانون میں ترامیم حکومت کی پالیسیوں اور آئینی اور قانونی سکیم کے مطابق ہیں۔ اگرکسی معاملے پر کمیٹی اور متعلقہ وزارت کی آراء مختلف ہوں گی تو معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ کابینہ نے قیصر عالم کو چیئرمین فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ ایجنڈا نمبر3 کو مؤخر کر دیا گیا۔ پورٹ قاسم پر ایل این جی کے نئے ٹرمینل کی تعمیر کے حوالے سے کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پورٹ قاسم پر نئے ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کے حوالے سے این او سی کا اجراء کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ موجودہ پائپ لائن میں ”پہلے آئیے پہلے پایئے” کی بنیاد پر اور نئی گیس پائپ لائن میں نئے ٹرمینل کے آپریٹرز کو کوٹہ دیا جائے گا۔ کابینہ نے وزارتِ بحری امور کو ہدایت کی کہ مستقبل کے حوالے سے جامع لائحہ عمل بھی کابینہ کو پیش کیا جائے۔ کابینہ نے زائرین کی سہولت کے لئے فیری سروس کے آغاز کی منظوری دی۔ اس مقصد کے لئے کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ پر متعلقہ پورٹ اتھارٹیز کی جانب سے مسافرین کی سہولت کے لئے امیگریشن، کسٹم سمیت تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ برائے 2018-19ء اور سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2019ء کابینہ کے سامنے پیش کی گئی۔ کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ آئی پی پیز سے طے پانے والے معاملات کے نتیجہ میں مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ وزیرِ منصوبہ بندی نے توانائی کے شعبہ میں کی جانے والی اصلاحات کے حوالہ سے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے حوالے سے پالیسی جو اپریل 2019ء سے التوا کا شکار تھی بالآخر منظور کرالی گئی ہے۔ ایکویٹی پر واپسی کی شرح کو کم کیا گیا ہے، اس فیصلے سے آئندہ دو، تین سال میں تقریباً سو ارب روپے کی بچت ہو گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کم کارکردگی والے پاور پلانٹس کو بند کیا جا رہا ہے، اس فیصلے کے تحت 1479میگاواٹ کے پلانٹس کو فوری طور پر بند کیا جا رہا ہے جبکہ 1460 میگاواٹ کے پلانٹس کو جن کی کارکردگی خراب ہے ستمبر 2022ء تک بند کر دیا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ماضی کی حکومت نے مہنگی گیس خریدتے ہوئے چند پاور پلانٹس کو پابند کیا کہ وہ لازمی گیس خریدیں اور اس وجہ سے انہیں Must Run Plants قرار دیا گیا تاہم اس حوالے سے ان کی کارکردگی کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب یہ شرط ختم کی جا رہی ہے ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کراچی میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کے الیکٹرک کی استعداد میں اضافہ کرنے کے لئے استعداد کا اضافہ کیا جا رہا ہے یہ عمل آئندہ تین سال میں مکمل ہو جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ فوری طور پر تین سو سے چار سو میگا واٹ کے الیکٹرک کی کپیسیٹی میں شامل کیا جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ کے الیکٹرک کے ماہانہ نقصانات کم کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئی پی پیز سے طے پانے والے معاملات کے نتیجے میں ہر سال سو ارب سے زائد روپے کی بچت ہوگی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 27 اگست2020ء کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی تو ثیق کی جبکہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 27 اگست 2020ء کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی تو ثیق کی گئی۔ ایجنڈا نمبر9 ملتوی کر دیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے حکومت سندھ کی درخواست پر صوبہ سندھ میں رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کرنے کی منظوری دیدی۔ کابینہ نے وفاقی دارالحکومت کے لئے کیپیٹل ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے قیام کی بھی منظوری دیدی۔ ایجنڈا نمبر 12 ملتوی کر دیا گیا۔ کابینہ نے 19 مئی2004ء میں وفاقی دارالحکومت کے زون II، IIIاور IV میں بجلی و گیس کے نئے میٹروں پر لگائی جانے والی پابندی کے فیصلے اور بعد ازاں اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیرِ قانون، مشیر داخلہ، مشیر پارلیمانی امور، وزارتِ منصوبہ بندی کے نمائندے پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں60 دنوں میں سفارشات پیش کرے گی۔ مارگلہ روڈ پر تجاوزات ہٹانے کے حوالے سے کابینہ کی ہدایات پر عملدرآمد میں پیشرفت کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ ایجنڈا نمبر15 مؤخر کر دیا گیا۔ کابینہ نے منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کی منظوری دیدی۔ کابینہ کو اسلام آباد میں معیاری سہولتوں سے آراستہ ماڈل پناہ گاہوں کی تعمیر پر بریفنگ دی گئی۔ گذشتہ روز وزیرِاعظم نے ترلائی میں ماڈل پناہ گاہ کا دورہ کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں ماڈل پناہ گاہوں کی تعمیر اور کامیابی کے بعد اس کا دائرہ کار ملک کے طول و ارض میں پھیلایا جائے گا۔ اس حوالے سے نجی شعبے اور مخیر حضرات کو بھی شامل کیا جائے گا۔ کابینہ نے معاشرے کے کمزور طبقوں کو ریلیف کی فراہمی اور پناہ گاہوں کا پائیدار ماڈل تشکیل دینے پر معاون خصوصیٰ برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی کاوشوں کو سراہا۔ کابینہ نے بیت المال کا بہتر انتظام یقینی بنانے پر موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر عون عباس بپی کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ یہ خیال کیا جاتا ہے عوام کی خوشحال کے بعد فلاحی ریاست کا قیام ممکن ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ان کا ماننا ہے کہ فلاحی ریاست کا قیام عوام کی خوشحالی کا باعث بنتا ہے۔ چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد نے ایس ای سی پی کے ایڈیشنل جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کی گمشدگی اور بازیابی کے حوالے سے اب تک کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔ وزیرِاعظم نے چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ ساجد گوندل کی بازیابی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔ کابینہ نے اس حوالے سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ وہ ان واقعات کا جائزہ لیکر ان کے مستقل تدارک کے لئے سفارشات پیش کرے۔ اس کمیٹی میں وزیرِ قانون، مشیر داخلہ، چیف کمشنر ، آئی جی اسلام آباد و دیگر متعلقین شامل ہوں گے۔کابینہ نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لئے ڈائریکٹر کے عہدے کے لئے نمائندگان کی منظوری دیدی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے عزم اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے کردار کی بدولت ملک کوویڈ 19کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں ،دنیا میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ اتنی جلدی اور کامیاب حکمت عملی کے تحت عالمی وباء کو شکست دی گئی ہو ، اپوزیشن کی تنقید اور بلاجواز واویلے کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیراعظم کی کامیاب پالیسیوں اور دانشمندانہ فیصلوں سے آج ملک کی معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اگر اپوزیشن کے کہنے پر ملک بند کردیا جاتا تو آج ملکی معیشت ایسی نہ ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کا کام فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنا ہوتا لیکن بدقسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی 10 پرسنٹ سے آگے نہیں جاسکتی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوجماعتوں سے گذشتہ 30 سے 35 سالوں کے دوران ایسے کلچر کو فروغ دیا کہ افسران کو اہلیت کی بجائے وفاداری کی بنیاد پر لگایا جاتا رہا ،پنجاب میں آئی جی کی تبدیلی معمول کا بات ہے جو بھی افسر کارکردگی نہیں دیکھائے گا اسے ہٹادیا جائے گا ،کسی کو بھی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔