اسلام آباد ۔ 18 دسمبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے، مریم نواز کو بیرون ملک جانے کے لئے ای سی ایل سے نام نکالنے کے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اور پی ٹی آئی قانون کی بالادستی اور قانون کے یکساں اطلاق کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کے …
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 دسمبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے، مریم نواز کو بیرون ملک جانے کے لئے ای سی ایل سے نام نکالنے کے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اور پی ٹی آئی قانون کی بالادستی اور قانون کے یکساں اطلاق کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کے ادارے ریاست کے ستون ہیں، ریاست کا مفاد ہر حال میں اہم اور مقدم ہے، ہم نے اپنے اداروں کو تقویت دینی اور با اختیار بنانا ہے، آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی اور قانونی کمیٹی کی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ حکومت اس معاملے پر اپیل میں جاتی ہے یا پارلیمنٹ سے منظوری لی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بدھ کو یہاں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کور کمیٹی کے اجلاس میں اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان تحریک انصاف، انصاف کے حصول کے لئے مسلسل جدوجہد کرتی رہی ہے، ہمارے منشور کا اہم جزو انصاف کی فراہمی، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا اور یکساں قانون کے اطلاق کے لئے مناسب ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قانون کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اصلاحات لانا ہے تاکہ عام اور خاص کے لئے یکساں قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کور کمیٹی میں ماہر قانون علی ظفر اور بابر اعوان نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف فیصلے پر بریفنگ دی جس میں کمیٹی کو اس کیس کے قانونی نکات، عدالتی فیصلے میں سقم اور کمزوریوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اور کور کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کے ادارے ریاست کے ستون ہیں، ریاست کا مفاد ہر حال میں اہم اور مقدم ہے، ہم نے اپنے اداروں کو تقویت دینی، با اختیار بنانا ہے۔ حکومت قانون اور آئین کے ساتھ کھڑی ہے، قانونی ٹیم اس حوالے سے جو بھی لائحہ عمل تیار کرے گی وہ کمیٹی وفاقی کابینہ اور پارٹی کو آگاہ کرے گی جس کے بعد حکومت اپنا موقف پیش کرے گی۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ملائیشیا کے حوالے سے میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں جس پر وزیراعظم عمران خان نے کور کمیٹی کو دورہ ملائیشیا سے جڑے محرکات اور پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ خطے میں او آئی سی، جس میں 57 مسلمان ممالک ممبر ہیں، کا اہم کردار ہے۔ امت مسلمہ کا اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، پاکستان کو ملت اسلامیہ کو یکجا کرنے کا کردار ادا کرنا چاہیے، یہی وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے، پاکستان کسی بھی ملک کے ساتھ ذاتی مفادات کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتا، امت مسلمہ کی اجتماعی بہتری اور ہم آہنگی کے لئے پاکستان کلیدی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مہاتیر محمد حکومت میں نہیں تھے تو اس کانفرنس کے چار اجلاس پہلے بھی ہو چکے ہیں لیکن اس اجلاس میں پاکستان کو مدعو نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان مسلمان بھائیوں کو اکٹھا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، مشترکہ مفاد، باہمی اتحاد، یکہجتی کو تقویت دینے میں ہر اول دستے کا کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کور کمیٹی میں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی کمیٹی کو ایک مرتبہ پھر یہ ہدایات دی ہیں کہ سپیکر قومی اسمبلی کے ساتھ مل کر چیف الیکشن کمشنر کیلئے متفقہ امیدوار کے لئے اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ ریگولیٹر کی تعیناتی کسی کی خواہش پر نہیں ہونی چاہیے، دو جماعتوں کا مل بیٹھ کر الیکشن کمشنر لگانا غیر منصفانہ ہے، افراد سے زیادہ ادارے اہم ہونے چاہئیں، اس معاملے کے مستقل حل کے لئے کام کیا جائے۔ کور کمیٹی نے انصاف لائرز ونگ کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں جہاں لاء آفیسرز کی آسامیاں خالی ہیں وہاں تعیناتیاں کی جائیں۔ اجلاس میں چیف آرگنائزر نے پارٹی کی تنظیم سازی سے متعلق آگاہ کیا۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں مریم نواز کی بیرون ملک روانگی کی درخواست پر بھی بات ہوئی۔ وزیراعظم اور کور کمیٹی نے کہا کہ قانون سے بالاتر اور مقدس گائے کوئی نہیں، مریم نواز کی بیرون ملک جانے کی خواہش کو قانون کے مطابق دیکھا جائے گا، حکومت ذیلی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق فیصلہ کرے گی، خواہشات اور ارمانوں میں جکڑے قانون کو آزاد کریں گے۔ کور کمیٹی نے بھارت کی جانب سے سٹیزن ایکٹ میں ترمیم کے مکروہ عمل کی مذمت کی۔ وزیراعظم نے ہندوستان حکومت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے رکھا، انتہا پسندی کی سوچ کو ریاست کے لبادے میں چھپا کر اقلیتوں کو ٹھکانے لگانے کی سازش کو بے نقاب کیا۔ کور کمیٹی نے کشمیر کے مسلئے پر وزیراعظم کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعلی پنجاب نے دل کے ہسپتال پر حملے سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ ملائیشیا کے حوالے سے حکومت کا فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا ہے جس کے مثبت اثرات آئیں گے، مہاتیر محمد نے بھی وزیراعظم عمران خان کے بیانیے سے اتفاق کیا ہے، پاکستان کو امت مسلمہ کو جوڑنے کے لئے جو کردار ادا چاہیے وہ کردار ادا کر رہا ہے، ملائیشیاء اور سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ رشتہ ہر مفاد سے مقدم ہے، دونوں ممالک پاکستان کو یکساں قبول کرتے ہیں، پاکستان امت مسلمہ کو جوڑنے کے لئے غیر جانبدار کردار ادا کر کے غلط فہمیوں اور فاصلوں کو ختم کرنا چاہتا ہے، سعودی عرب نے ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔








