وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کامیابی سے جاری ہے، اب تک 22 لاکھ افراد رجسٹرڈ جبکہ تقریباً 19 لاکھ ٹوکن جاری ہو چکے ہیں، غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے اور شہریوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کسی پرتشدد جتھے کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، سڑکیں کھلی رکھی …
وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کامیابی سے جاری ہے، کسی پرتشدد جتھے کو اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کامیابی سے جاری ہے، اب تک 22 لاکھ افراد رجسٹرڈ جبکہ تقریباً 19 لاکھ ٹوکن جاری ہو چکے ہیں، غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے اور شہریوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کسی پرتشدد جتھے کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، سڑکیں کھلی رکھی جائیں گی۔
اتوار کو یہاں وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان بھر میں خصوصی فیول ریلیف سکیم کامیابی سے جاری ہے، خطے میں کشیدگی کے باعث پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس نے دنیا کی تمام معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے جبکہ اس کا دباؤ پاکستان پر بھی آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کافی عرصہ قبل اس سکیم کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی اور تمام متعلقہ محکموں اور وزارتوں کو بروقت ہدایات جاری کیں کہ ایسی سکیم وضع کی جائے جس سے اشرافیہ، بڑی گاڑیوں کے مالکان اور ایلیٹ طبقہ نہیں بلکہ عام اور غریب آدمی فائدہ اٹھا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت خصوصی فیول ریلیف سکیم کا اجراء کیا گیا۔ وزیراعظم نے ہر سطح پر اس کی منصوبہ بندی کی خود نگرانی کی اور سکیم کے تحت آئی ٹی کا مکمل نظام وضع کروایا۔ وزارتِ آئی ٹی نے اس مقصد کے لیے باقاعدہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بھی تیار کیا جبکہ رجسٹریشن کے نظام کے لیے شارٹ کوڈ کے ذریعے ایس ایم ایس سروس شروع کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے نظام کے پیچھے ایک جامع آئی ٹی بیسڈ سسٹم موجود ہے جس کے تحت رجسٹریشن کی جاتی ہے اور اہل افراد کے لیے ٹوکن جنریٹ کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکیم کا کامیابی سے جاری رہنا وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی نیک نیتی اور عوامی فلاح کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام اور میڈیا کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز پر وزیراعظم نے موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی کے لیے اہلیت کی مدت 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یکم جنوری 2006ء یا اس کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی اس سکیم کے لیے اہل ہوں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام کی تجاویز پر وزیراعظم نے فیول ریلیف سکیم کے تحت ایس ایم ایس سروس مفت کر دی ہے جبکہ موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ کے لیے پانچ لیٹر فی ٹوکن کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارفین کو ہفتے میں ایک بار 500 روپے کی فیول رعایت ملے گی، یوں وہ ماہانہ چار مرتبہ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔ یہ سہولت پورے پاکستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دستیاب ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 800 سی سی تک گاڑیوں کو ہر دس دن بعد 10 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جا رہی ہے، جس کے تحت ماہانہ 30 لیٹر پٹرول رعایتی نرخ پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیم کے تحت تمام پیٹرول پمپس رجسٹرڈ ہیں جبکہ وزارتِ آئی ٹی نے مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم اور ریئل ٹائم میپنگ کا نظام قائم کیا ہے۔ سکیم کی نگرانی 24 گھنٹے جاری ہے اور کسی بھی مسئلے کا فوری ازالہ کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اب تک 22 لاکھ افراد سکیم میں رجسٹر ہو چکے ہیں جن میں 92 فیصد موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمارٹ فون نہ رکھنے والے افراد بھی شارٹ کوڈ اور ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔ سکیم سے استفادہ کرنے کے لیے متعلقہ گاڑی کا مالک ہونا بھی ضروری نہیں، صرف گاڑی کی رجسٹریشن کی تفصیلات اور شناختی کارڈ نمبر درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف گزشتہ روز تقریباً 5 لاکھ 57 ہزار رجسٹریشنز ہوئی ہیں جبکہ اب تک تقریباً 19 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں جن میں تقریباً 18 لاکھ موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ کے لیے جبکہ ایک لاکھ 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سکیم کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہے ہیں اور متعلقہ وزارتوں، اوگرا اور دیگر اداروں کو اس حوالے سے مکمل طور پر متحرک کیا گیا ہے۔ عوامی فیڈ بیک کی روشنی میں سکیم میں مزید بہتری لائی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سکیم سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنی آراء اور تجاویز سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مستحق افراد کو آئی ٹی نظام کے ذریعے ریلیف فراہم کرنے کا یہ اقدام دنیا کے لیے ایک کیس اسٹڈی ہوگا کہ مستحق افراد کو کس طریقے سے ریلیف پہنچایا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مجموعی سبسڈی دینے کے بجائے مستحق افراد کو ہدف بنا کر ریلیف فراہم کرنا زیادہ مشکل کام تھا کیونکہ عمومی سبسڈی کی صورت میں بڑی گاڑیوں کے مالکان بھی اس سے فائدہ اٹھاتے جبکہ موجودہ سکیم کے ذریعے صرف مستحق افراد کو ریلیف پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیم کو ڈیزائن کرنا اور اس پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنانا آسان کام نہیں تھا۔ انہوں نے تمام میڈیا ہاؤسز، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن، پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی آراء کی روشنی میں سکیم کو مزید بہتر بنایا جاتا رہے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مستحق افراد کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کا یہ ایک اہم اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں وزیراعظم نے ہمیشہ عملی اقدامات کیے ہیں، ڈینگی کے دوران بھی آئی ٹی نظام کے ذریعے ایک مؤثر ماڈل وضع کیا گیا جسے عالمی سطح پر زیر مطالعہ لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیول ریلیف سکیم بھی ایک کامیاب اقدام کے طور پر آگے بڑھ رہی ہے اور اس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات اور قیادت میں یہ سکیم آگے بڑھتی رہے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے اور شہریوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں، حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ سڑکوں پر کسی قسم کا خلل نہ آنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ، پولیس، وزارت داخلہ سمیت پوری حکومت اس معاملے پر واضح ہے، کسی پرتشدد جتھے کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور راستے کھلے رکھے جائیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ فیول ریلیف سکیم کی رجسٹریشن میں سب سے زیادہ شکایات ”مس میچ“ سے متعلق موصول ہوئیں۔ بعض افراد نے رہائش کے شہر کے مطابق اندراج کیا جبکہ گاڑی یا موٹر سائیکل کسی دوسرے صوبے میں رجسٹرڈ تھی جس کے باعث مسائل سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق گزشتہ 8 سے 10 روز سے ٹی وی پر مسلسل آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔ تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نمائندوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بالخصوص دیہی اور دور دراز علاقوں میں آگاہی کے لیے بینرز آویزاں کیے جائیں۔ وفاقی وزیر نے کہا رکہ سکیم کے تحت پیٹرول پمپس کی میپنگ مکمل کر لی گئی ہے، جس کے ذریعے ٹوکن کے استعمال اور رعایتی فیول کے اجراء کی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔ جن پٹرول پمپس پر ٹوکن استعمال نہیں ہوں گے، انہیں عوام میں آگاہی بہتر بنانے کی ہدایت کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فیول ریلیف سکیم کے لیے فنڈز کی منظوری ای سی سی کے ذریعے دی گئی ہے جبکہ وزارت خزانہ نے دستیاب فنڈز میں سے اس مقصد کے لیے رقم مختص کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوان، رضاکار اور میڈیا ٹیمیں بھی پیٹرول پمپس پر عوام کی رہنمائی کر رہی ہیں، مشکل حالات میں باہمی تعاون سے ہی ایسی سکیموں کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سے ہر سطح پر رابطہ رہتا ہے، تاہم قانون سب کے لیے یکساں ہے اور سڑکیں بند کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا ہے جن میں غیر ضروری سفر، اخراجات اور تقریبات میں کمی اور ویڈیو کانفرنس کو ترجیح دینا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دورہ کے موقع پر وفد میں وزیر خارجہ اور طارق فاطمی شامل ہیں جبکہ وزیر منصوبہ بندی، وزیر موسمیاتی تبدیلی اور وزیر اطلاعات وفد کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا یہ وفد انتہائی مختصر ہے۔








