وزیراعظم محمد نواز شریف کا وزارت خارجہ امور کے دورہ کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 30 جون (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے پرامن ہمسائیگی اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے تصفیہ کے حوالہ سے اپنی ترجیح کا اعادہ کرتے ہوئے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے انکار کو سرگرم انداز میں اجاگر کیا جائے، تجارت، سرمایہ کاری اور سائنسی اشتراک …

اسلام آباد ۔ 30 جون (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے پرامن ہمسائیگی اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے تصفیہ کے حوالہ سے اپنی ترجیح کا اعادہ کرتے ہوئے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے انکار کو سرگرم انداز میں اجاگر کیا جائے، تجارت، سرمایہ کاری اور سائنسی اشتراک کار پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تزویراتی ستون ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات کا اظہار جمعہ کو وزارت خارجہ امور کے دورہ کے دوران کیا جس کا مقصد پاکستان کے اردگرد حالیہ تبدیلیوں اور ابھرتی ہوئی عالمی و علاقائی صورتحال کے تناظر میں ملک کی خارجہ پالیسی ترجیحات کا جامع جائزہ لینا تھا۔ وزیراعظم نے امریکہ۔بھارت مشترکہ اعلامیہ میں مقبوضہ وادی میں بےگناہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم پر مکمل خاموشی پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پرامن ہمسائیگی اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے تصفیہ کے حوالہ سے اپنی ترجیح کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے پاک۔افغان تعلقات کی بہتری کیلئے چین کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے ایس سی او سربراہ اجلاس کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات اور سرحد پار دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے دوطرفہ اور چہار جہتی نظام وضع کرنے کیلئے اتفاق رائے کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم نے پائیدار مذاکرات کے ذریعے خطہ میں امن و استحکام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنی شراکت داری کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے، اس ضمن میں انہوں نے وزارت خارجہ امور کو افغانستان کے بارے میں اقدامات وضع کرنے اور پاکستان کی ترقی کو آگے بڑھانے کیلئے اقتصادی اور تجارتی روابط استوار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

Leave a Reply