وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کے بندرگاہی نظام میں جدید اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے تجارت کو سہل، شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں۔
وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات،پاکستان کا بندرگاہی نظام جدید اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور میں داخل

مزید خبریں
اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کے بندرگاہی نظام میں جدید اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے تجارت کو سہل، شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں۔
بندرگاہی شعبے کی ترقی کے لیے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نیشنل پورٹس ماسٹر پلان تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے ملک کے بندرگاہی نظام کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی وضع کی گئی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد بندرگاہوں کی استعداد میں اضافہ، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا اور عالمی تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔اسی سلسلے میں بندرگاہی سرگرمیوں میں مسابقت اور شفافیت کے فروغ کے لیے یکساں پورٹ ٹیرف نظام نافذ کیا گیا ہے، جبکہ کراچی پورٹس پر جدید کارگو مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ کارگو ہینڈلنگ کی استعداد اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے پاکستان سنگل ونڈو اور فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ کے نفاذ سے تجارتی عمل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ جدید نظام کے باعث کارگو کلیئرنس کا دورانیہ 53 گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً 18 گھنٹے رہ گیا ہے، جس سے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے وقت اور لاگت دونوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ کے ذریعے اسیسمنٹ افسران کو ایک محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ماحول فراہم کیا گیا ہے، جبکہ کسٹمز، بینکوں اور پورٹ آپریٹرز کو مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے دستاویزی کارروائی میں کمی، شفافیت میں اضافہ اور کاروباری عمل کو مزید تیز اور آسان بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت ہونے والی اصلاحات کے نتیجے میں کارگو ہینڈلنگ، تجارتی سہولت کاری اور بندرگاہی آپریشنز کی مجموعی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی بندرگاہی نظام نہ صرف پاکستان کی عالمی تجارتی مسابقت کو بہتر بنا رہا ہے بلکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ملکی معیشت کو مزید مضبوط بنانے میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔حکومت کا مقصد بندرگاہی شعبے کو جدید، مربوط اور عالمی معیار کے مطابق بناتے ہوئے پاکستان کو خطے میں ایک مؤثر تجارتی اور لاجسٹکس مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرنا ہے۔








