لندن کے میئر صادق خان نے ٹائیسن فیوری اور انتھونی جوشوا کے درمیان مجوزہ بڑے مقابلے کی میزبانی کے لیے ویمبلے سٹیڈیم کی حمایت کرتے ہوئے منتظمین سے لندن میں مقابلہ کرانے پر بات چیت کی دعوت دے دی۔
ٹائیسن فیوری اور انتھونی جوشوا باکسنگ فائٹ ، میئر لندن کی ویمبلے سٹیڈیم میں مقابلہ کروانے کی خواہش

مزید خبریں
لندن۔4ستمبر (اے پی پی):لندن کے میئر صادق خان نے ٹائیسن فیوری اور انتھونی جوشوا کے درمیان مجوزہ بڑے مقابلے کی میزبانی کے لیے ویمبلے سٹیڈیم کی حمایت کرتے ہوئے منتظمین سے لندن میں مقابلہ کرانے پر بات چیت کی دعوت دے دی۔
صادق خان نے بی بی سی سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹائیسن فیوری اور انتھونی جوشوا ب کی فائٹ لندن میں کرانے کے لیے واقعی پُرجوش ہیں۔ ان کے بقول دونوں عظیم برطانوی باکسرز ہیں، عالمی چیمپئن رہ چکے ہیں اور برطانوی شائقین نے ان کے کیریئر میں بھرپور حمایت کی ہے۔بی بی سی سپورٹس کے مطابق سعودی منتظمین سیلا نے حالیہ ہفتوں میں لڑائی کو قومی سٹیڈیم ویمبلے لانے کے سلسلے میں میئر کے دفتر سے رابطہ کیا ہے۔ تاہم مقابلے کے منتظمین اور نشریاتی ادارے نیٹ فلکس نومبر میں فائٹ نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن میں کرانے کے خواہاں ہیں، جس کے باعث لندن میں انعقاد کے حوالے سے بات چیت تاحال ابتدائی مرحلے میں ہے۔
ویمبلے سٹیڈیم میں عام طور پر تقریبات رات 23:00 بجے تک ختم کرنا ضروری ہوتی ہیں۔ تاہم فائٹ کو رات گئے تک جاری رکھنے کی صورت میں اس پابندی میں توسیع پر غور کیا جا سکتا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس معاملے کا جائزہ سٹیڈیم کے حفاظتی مشاورتی گروپ کو لینا ہوگا۔صادق خان نے کہا کہ ویمبلے میں پہلے بھی ٹائیسن فیوری اور انتھونی جوشوا کے مقابلوں سمیت کئی یادگار مقابلے منعقد ہو چکے ہیں اور برطانوی شائقین دونوں کو براہ راست لندن میں ایک دوسرے کے خلاف دیکھنا چاہتے ہیں۔مقابلے کے مقام کا حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
انتھونی جوشوا کے پروموٹر ایڈی ہارن نے رواں ہفتے اعلان کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ آئندہ ہفتے پریس کانفرنس بھی متوقع ہے۔ہارن کے مطابق انتھونی جوشوا کے معاہدے میں فائٹ کے لیے برطانیہ کا مقام شامل ہے، جبکہ سیلا اور نیٹ فلکس امریکی ناظرین کو مدنظر رکھتے ہوئے مقابلہ امریکا میں کرانے کے خواہاں ہیں۔ ان کے بقول اگر فائٹ نیویارک منتقل کرنا ہو تو معاہدے کی شرائط پر دوبارہ بات کرنا ہوگی۔میئرصادق خان نے کہا کہ اگر مقابلہ لندن میں ہوتا ہے تو تقریباً 100،000 شائقین اسے سٹیڈیم میں براہ راست دیکھ سکتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اپنے پسندیدہ باکسرز کو ایک دوسرے کے مدمقابل دیکھ سکیں گے۔







