وزیراعظم کی زیر صدارت تاریخی عمارات کے دوبارہ استعمال مجوزہ منصوبے کے بارے میں اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی گفتگو

اسلام آباد ۔ 13 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس کو اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹی اور چاروں گورنر ہاﺅسز کو میوزیم بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر سرکاری عمارتوں کو سیاحتی مقامات اور ہوٹلز میں تبدیل کیا جائے گا، ان عمارتوں پر آنے والے سالانہ 105 کروڑ روپے کے اخراجات کی بچت ہو گی۔ …

اسلام آباد ۔ 13 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس کو اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹی اور چاروں گورنر ہاﺅسز کو میوزیم بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر سرکاری عمارتوں کو سیاحتی مقامات اور ہوٹلز میں تبدیل کیا جائے گا، ان عمارتوں پر آنے والے سالانہ 105 کروڑ روپے کے اخراجات کی بچت ہو گی۔ جمعرات کو وزیراعظم کی زیر صدارت تاریخی عمارات کے دوبارہ استعمال مجوزہ منصوبے کے بارے میں اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں جس سادگی اختیار کرنے کا کہا تھا۔ انہوں نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کے شاہانہ طرز طریقے سے لوگ پریشان ہیں، اس لئے حکومت نے شاہانہ اخراجات کو ختم کر کے سادگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 1096 کنال پر محیط وزیراعظم ہاﺅس اسلام آباد کو ایک اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹی میں تبدیل کیا جائے گا، وزیراعظم ہاﺅس پر سالانہ 47 کروڑ روپے کے اخراجات آتے تھے جس کی بچت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم ہاﺅس کے پیچھے موجود زمین پر یونیورسٹی کے لئے نئی عمارت تعمیر کی جائے گی، یونیورسٹی کے لئے پی سی ون بنایا جائے گا، یونیورسٹی کے قیام کے لئے وزیر تعلیم شفقت محمود، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری اور ڈاکٹر عطاءالرحمن پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے، یہ یونیورسٹی تعلیمی لحاظ سے منفرد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ہاﺅس مری جس کی تزئین و آرائش پر حال ہی میں پنجاب حکومت نے 60 کروڑ روپے خرچ کئے، کو ہیریٹج بوتیک ہوٹل بنایا جائے گا، اس عمارت پر سالانہ چار کروڑ روپے کے اخراجات آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ہاﺅس مری کو سیاحتی کمپلیکس میں تبدیل کیا جائے گا، پنجاب ہاﺅس مری پر سالانہ اڑھائی کروڑ روپے اخراجات آ رہے تھے۔