وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام مشکل ترین حالات میں آگے بڑھایا، کورونا کی وجہ سے لاک ڈاﺅن تھا لیکن ہم نے ملک کے طول و عرض میں مسحقین میں رقم کی تقسیم کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے …

اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام مشکل ترین حالات میں آگے بڑھایا، کورونا کی وجہ سے لاک ڈاﺅن تھا لیکن ہم نے ملک کے طول و عرض میں مسحقین میں رقم کی تقسیم کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد کو پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دےدی ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ پروگرام کےلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، پہلی مرتبہ تحصیل کی سطح پر معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح ہدایات دی تھیں کہ پروگرام کو سیاست سے بالاتر ہو کر شفاف انداز میں چلانا ہے اور میرٹ پر مستحقین میں امدادی رقوم تقسیم کرنا ہے، اس لئے قواعد و ضوابط کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ کراچی سے گلگت تک رقم تقسیم کی گئی اور میرٹ پر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اطلاعات مو صول ہوئیں کہ کچھ لوگوں کے پاس موبائل میں بیلنس موجود نہیں اور ان کے پاس ایس ایم ایس کےلئے بھی پیسے نہیں تھے اس سلسلہ میں ہم نے پی ٹی اے سے بات کی اور انہوں نے فری سروس فراہم کی۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ نادرا اور پی ٹی اے سمیت بہت سے اداروں نے پروگرام کو کامیاب بنانے کےلئے بھرپور ساتھ دیا جس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت صوبائی و علاقائی لحاظ سے اب تک ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندانوں کو 121 ارب امداد فراہم کردی گئی ہے۔ پنجاب میں 43 لاکھ 42 ہزار سے زائد افراد میں 52 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جاچکی ہے.سندھ میں 30 لاکھ 34 ہزار سے زائد افراد میں 36 ارب 63کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔ خیبرپختونخوا میں 18 لاکھ 45 ہزار سے زائد افراد میں 22 ارب 69 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ بلوچستان میں 4 لاکھ 97 ہزار سے زائد افراد میں 6 ارب 5 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد افراد میں 2 ارب 12 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ گلگت بلتستان میں 70 ہزار سے زائد افراد میں 88 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ اسلام آباد میں 46 ہزار سے زائد افراد میں 56 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔