وزیراعظم کی وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کرنے کی ہدایت، موسمی تغیرات کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون ناگزیر ہے، شہباز شریف
وزیراعظم کی وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کرنے کی ہدایت، موسمی تغیرات کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون ناگزیر ہے، شہباز شریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسمی تغیرات کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مون سون کی پیشگی تیاری کے لیے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی پیشگی تیاری اور موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی خطرات سے بچائو کے نظام پر جائزہ اجلاس بدھ کو یہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین واپڈا اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے عہدیداران نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، موسمی تغیرات کے قومی سطح کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کو تمام صوبوں ،آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کا اس ہفتے ہنگامی دورہ کرنے کی ہدایت کی تاکہ مون سون کی پیشگی تیاری مکمل کی جا سکے۔ انہوں نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی کی زیر نگرانی این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ وفاقی وزارتوں پر مشتمل ایمرجنسی رسپانس کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو متعلقہ صوبائی اداروں سے عملی تعاون کے لیے کام کرے گی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر ایمرجنسی رسپانس کمیٹی ہفتہ وار ملاقاتیں کرے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی وزیر خزانہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی میں مون سون کی ممکنہ تباہی کی صورت میں ہنگامی فنڈ کی تشکیل کے لیے پیشگی تیاری مکمل کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی اداروں کی مالی معاونت کے تحت منصوبے بھی قومی و مقامی اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ قومی آبی تحفظ و سلامتی کے لیے وفاقی حکومت نے اس سال مالی بجٹ میں آبی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے 330 ارب روپے کی اضافی رقم مختص کی ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس سال مون سون سیزن میں ممکنہ سیلابی صورتحال اور خطرات سے بچائو کے لیےاقدامات جامع روڈ میپ کے تحت ترتیب دیئے جائیں، تمام صوبے مقامی سطح پر خطرے سے دو چار اضلاع میں دریائوں کی گزرگاہوں اور سیلاب کے ممکنہ راستوں میں تجاوزات اور دیگر مسائل کا پیشگی موثر حل یقینی بنائیں، مون سون کے دوران تمام ادارے اپنی مکمل ادارہ جاتی و تکنیکی استعداد کار کو عوام کی سہولت کے لیے بروئے کار لائیں۔ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے رواں سال مون سون کی پیشگی تیاری اور ممکنہ بارشوں اور سیلابی صورتحال اور موسمیاتی تغیر کے رحجان پر بریفنگ دی۔
وزیراعظم کو این ڈی ایم اے کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں رواں سال گرمی کی شدید لہر اور غیرمعمولی موسمیاتی تغیرات کے امکانات واضح ہیں، پاکستان میں بھی گرمی کی شدید لہر اور جولائی کے مہینے میں غیر معمولی بارشیں متوقع ہیں جن کے لیے مجوزہ حکمت عملی کے تحت تمام درکار انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم نے موسمیاتی تغیر اور مون سون کی ممکنہ تباہی سے یقینی بچائو کے لیے تمام وفاقی اور صوبائی متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ موثر تعاون اور جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تغیرات جیسے قومی خطرات سے بطریق احسن نبرد آزما ہونے کے لئے باہمی تعاون اور ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔








