وزیرِ اعظم پاکستان کے 1000 انٹرنشپ پروگرام کے تحت چین سے جدید زرعی تربیت حاصل کر کے وطن واپس آنے والے زرعی افسران کے لیے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ (AARI) فیصل آباد کے لائبریری ہال میں ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد ان افسران کے چین میں حاصل کردہ تجربات، مشاہدات اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کو دیگر سائنسدانوں تک منتقل کرنا تھا تاکہ انہیں عملی طور …
وزیراعظم کے انٹرنشپ پروگرام کے تحت چین سے جدید زرعی تربیت مکمل کرنے والے زرعی سائنسدانوں کا ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے میں سیمینار کا انعقاد

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 11 مارچ (اے پی پی):وزیرِ اعظم پاکستان کے 1000 انٹرنشپ پروگرام کے تحت چین سے جدید زرعی تربیت حاصل کر کے وطن واپس آنے والے زرعی افسران کے لیے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ (AARI) فیصل آباد کے لائبریری ہال میں ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد ان افسران کے چین میں حاصل کردہ تجربات، مشاہدات اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کو دیگر سائنسدانوں تک منتقل کرنا تھا تاکہ انہیں عملی طور پر استعمال کر کے ملک میں زرعی تحقیق اور پیداوار کو بہتر بنایا جا سکے۔تفصیلات کے مطابق مذکورہ حکومتی پروگرام کے تحت تقریباً 30 ریسرچرز کو تین اور چھ ماہ کی جدید تربیت کے لیے چین بھیجا گیا تھا جنہوں نے کامیابی سے اپنی تربیت مکمل کر لی ہے۔ سیمینار کے مختلف سیشنز میں ریسرچرزنے جامع پریزنٹیشنز کے ذریعے جدید زرعی تحقیق، ٹیکنالوجی اور چین کے کامیاب زرعی ماڈلز پر تفصیلی بریفنگ دی جس میں شرکاء نے سوال و جواب کے سیشن کے ذریعے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچرل (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد الرحمن نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو چین کی زرعی پیداوار کا موازنہ دیگر ممالک کے ساتھ کیا جا سکتا تھا تاہم مسلسل تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بدولت چین فی ایکڑ پیداوار میں اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ اب اس کا موازنہ کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد انہی بین الاقوامی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زرعی تحقیق کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
ڈی جی ریسرچ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس تربیتی پروگرام کے اگلے مرحلے میں، تربیت یافتہ افسران پر مشتمل مختلف ٹاسک گروپس تشکیل دیے جائیں گے۔ یہ گروپس ’’ریسرچ ری ویمپنگ‘‘ کے حوالے سے کام کریں گے اور اپنے تجربات کی روشنی میں جدید ٹیکنالوجی کو مقامی زرعی نظام میں مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے تجاویز مرتب کریں گے۔ڈاکٹر ساجد الرحمن نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ یہ پروگرام ملکی زراعت کی ترقی کے لیے ایک نیا سنگِ میل ہے۔
انہیں قوی امید ہے کہ ان نوجوان افسران کی کاوشیں مستقبل میں پاکستانی زرعی تحقیق اور پیداوار میں نمایاں اضافے کا سبب بنیں گی۔اس موقع پر ڈائریکٹر زرعی اطلاعات فیصل آباد ڈاکٹرآصف علی سمیت دیگر افسران و محققین بھی موجود تھے جنہوں نے چین سے لوٹنے والے افسران کے تجربات کو سراہا۔








