اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ کاوزیراعظم کے مشیران اورمعاونین خصوصی کیسزکاتفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس غلام اعظم قمبرانی پر مشتمل ڈویژن بنچ سے جاری حکم نامہ میں کہاگیاکہ عدالت وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تقرری کے خلاف درخواست مستردکرتی ہے، وزیراعظم کا معاونین خصوصی کا تقررآئین وقانون کی خلاف ورزی نہیں ہے،وزیراعظم کے معاونین خصوصی وفاقی وزیر ہیں نہ ہی وزیر مملکت،وزیراعظم کے معاونین خصوصی …
وزیراعظم کے مشیران اورمعاونین خصوصی کیسزکاتفصیلی فیصلہ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ کاوزیراعظم کے مشیران اورمعاونین خصوصی کیسزکاتفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس غلام اعظم قمبرانی پر مشتمل ڈویژن بنچ سے جاری حکم نامہ میں کہاگیاکہ عدالت وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تقرری کے خلاف درخواست مستردکرتی ہے، وزیراعظم کا معاونین خصوصی کا تقررآئین وقانون کی خلاف ورزی نہیں ہے،وزیراعظم کے معاونین خصوصی وفاقی وزیر ہیں نہ ہی وزیر مملکت،وزیراعظم کے معاونین خصوصی صرف مراعات سے مستفید ہوسکتے ہیں،عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیران آئینی عہدہ ہے ، مشیروں کو وفاقی وزیر کا درجہ دینا صرف مراعات کے لیے ہے،مشیر بھی کابینہ کا رکن نہیں اس لیےکابینہ اجلاس میں شامل نہیں ہوسکتا،وزیر اعظم کا مشیر کابینہ کمیٹی کا رکن یا سربراہ نہیں ہوسکتا، عدالت نے حفیظ شیخ، عبدالرزاق داود اور عشرت حسین کی کابینہ کمیٹی میں شمولیت غیر قانونی قراردےدی ، مشیر کابینہ کی کسی کمیٹی کانہ ممبرہوسکتاہےنہ اس کی صدارت کرسکتاہے، مشیر وزیراعظم پارلیمنٹ میں خطاب کرسکتاہےلیکن ووٹنگ میں حصہ نہیں لےسکتا۔








