وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و ٹیکسٹائل عبدالرزاق دائود کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 16 اپریل (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و ٹیکسٹائل عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تمام نکات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے، وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے دوسرے مرحلے کو حتمی شکل دی جائے گی، دوسر مرحلے کو حتمی شکل دینے کے نتیجہ میں پاکستان کی برآمدات …

اسلام آباد ۔ 16 اپریل (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و ٹیکسٹائل عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تمام نکات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے، وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے دوسرے مرحلے کو حتمی شکل دی جائے گی، دوسر مرحلے کو حتمی شکل دینے کے نتیجہ میں پاکستان کی برآمدات میں سالانہ دو ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے، انڈونیشیاء کے ساتھ ترجیحی تجارت معاہدے کے تحت مزید 20 اشیاء پر ٹیرف اور مارکیٹ رسائی کی سہولت حاصل ہوئی ہے جس سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو گا اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس منگل کو سید نوید قمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود، سیکرٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا، کمیٹی کے ارکان، وزارت تجارت اور ماتحت ذیلی اداروں کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے اور درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے سے متعلق امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے دوسرے مرحلے کے تمام نکات طے پا گئے ہیں، وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران اسے حتمی شکل دی جائے گی۔ آزادانہ تجارت کے معاہدے دوسرے مرحلے کے تحت 313 اشیاء پر ٹیرف میں سہولتیں ملیں ہیں جبکہ مارکیٹ تک رسائی کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، یہ سہولت قبل ازیں آسیان ممالک کو فراہم کی گئی تھی اور پاکستان کا یہ مطالبہ تھا کہ اسے بھی ان اشیاء پر ٹیرف لائن میں سہولتیں دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے، نومبر 2018ء میں اس پر گفت و شنید شروع ہوئی، ابتدائی طور پر ہم 57 اشیاء پر ٹیرف لائن میں سہولت مانگ رہے تھے، اب 313 اشیاء پر یہ سہولت میسر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر مالیت تک کی مارکیٹ رسائی پہلے ملی تھی، مزید سہولتوں کے ملنے سے چین کو پاکستانی چاول، چینی، ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات کی برآمد میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے دوسرے مرحلے کو حتمی شکل دینے کے نتیجہ میں امید ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں کم سے کم دو ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا جبکہ معیشت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبہ جات پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے دوسرے مرحلے کو 28 تاریخ کو حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیاء کے ساتھ ترجیحی تجارت کا معاہدہ پہلے ہی ہو چکا ہے اور پاکستان کو مزید 20 اشیاء پر ٹیرف اور مارکیٹ رسائی کی سہولت حاصل ہوئی ہے۔ اس کے نتیجہ میں پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو گا اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ اب انڈونیشیاء کو پاکستانی کینو، آلو، آڑو اور دیگر پھل اور سبزیاں بھی برآمد کی جا سکیں گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے میں مجموعی طور پر 1700 اشیاء پر سہولتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پاکستان نے چین کو خام مال پر ٹیرف سہولتیں دی ہیں کیونکہ اس سے پاکستان کی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ زراعت کے لئے پروٹیکشن ازم کی پالیسیاں بھی دونوں ممالک کے مابین آزادانہ تجارت کے معاہدے کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس افغانستان اور دبئی کے راستے بھارتی کپڑا پاکستان آ رہا ہے جو ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت کے لئے نقصان دہ ہے، پاکستان کی ٹیکسٹائل کی صنعت پہلے سے مسابقتی ماحول میں کام کر رہی ہے، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے کیونکہ ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینے سے ہماری برآمدات میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی کپڑے کی درآمد کو روکنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سیکرٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2014ء کے بعد سے لے کر اب تک برآمدات میں کمی آ رہی ہے جس کی اندرونی و بین الاقوامی وجوہات موجود ہیں، اندرونی وجوہات میں توانائی کی کمی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ بین الاقوامی وجوہات میں عالمی اقتصادی کساد بازاری اور سلو ڈائون سے پاکستان کی برآمدات کم ہوئی ہیں۔ 2019ء میں برآمدات میں 8 فیصد کمی آئی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ہماری درآمدات بھی کم ہوئی ہیں۔ حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں درآمدات میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی تجارت کو فروغ دینے کا خواہاں ہے، ہم عالمی مسابقتی ماحول کے مطابق اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت خام کاٹن، کاٹن، چاول، کھادیں، مچھلی، سپورٹس اور سوتی ملبوسات پاکستان کے اہم برآمدات میں شامل ہے، حکومت نے برآمدات میں اضافے کے لئے ایک حکمت عملی مرتب کی ہے جس کے اچھے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں درآمدات اور برآمدات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور ارکان نے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کے لئے جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

Leave a Reply