وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ وادبی ورثہ عرفان صدیقی کا انٹرویو میں اظہار خیال

تحقیقاتی کمشن کے لئے شرائط کار پر ہنگامہ بلاجواز ہے آخر’پانامہ لیکس‘ میں آنے والے 200 افراد کے دروازے پر قانون دستک کیوں نہ دے؟ صرف وزیراعظم کی ذات کو نشانہ بنانے کا ایجنڈا بتا رہا ہے کہ مسئلہ کرپشن نہیں کچھ اور ہے اپوزیشن اور میڈیا کا مخصوص حلقہ عوامی رائے اور جذبات کا اندازہ لگانے میں سخت غلطی کر رہا ہے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ وادبی …

تحقیقاتی کمشن کے لئے شرائط کار پر ہنگامہ بلاجواز ہے
آخر’پانامہ لیکس‘ میں آنے والے 200 افراد کے دروازے پر قانون دستک کیوں نہ دے؟
صرف وزیراعظم کی ذات کو نشانہ بنانے کا ایجنڈا بتا رہا ہے کہ مسئلہ کرپشن نہیں کچھ اور ہے
اپوزیشن اور میڈیا کا مخصوص حلقہ عوامی رائے اور جذبات کا اندازہ لگانے میں سخت غلطی کر رہا ہے
وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ وادبی ورثہ عرفان صدیقی کا انٹرویو میں اظہار خیال
اسلام آباد ۔ 28 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ وادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ تحقیقاتی کمشن کے لئے شرائط کار (ٹی۔او۔آرز) پرہنگامہ بلاجواز ہے۔ آخر’پانامہ لیکس‘ میں آنے والے 200 افراد کے دروازے پر قانون دستک کیوں نہ دے؟ نام نہ ہونے کے باوجود صرف وزیراعظم کو نشانہ بنانے کی چال کوعوام بخوابی سمجھتے ہیں۔ ایک ٹی ۔وی چینل کو انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل کیا کسی کو یہ حوصلہ ہوا کہ وہ اپنی ذات اور خاندان کے احتساب کے لئے خودکو سب سے بڑی عدالت کے سامنے پیش کردے۔ اصل بات یہ ہے کہ اپوزیشن کو یقین ہی نہیں تھا کہ نوازشریف سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر مشتمل کمیشن تسلیم کرلیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اپوزیشن کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے ہیں اور اس نے ٹی۔او۔آرز کا نیا قضیہ شروع کردیا ہے۔ ایک سوال پرعرفان صدیقی نے کہاکہ اپوزیشن اور میڈیا کا ایک مخصوص حلقہ عوام کی رائے اور جذبات کے حوالے سے سخت غلطی کرتے ہوئے درست اندازہ نہیں لگارہا۔ کسی دلیل اور ثبوت کے بغیر الزام تراشی کی روش ان کے اعتبار اور ساکھ کو شدیدنقصان پہنچارہی ہے۔ رائے عامہ اس پراپیگنڈے کا کوئی اثر نہیں لے رہی کیونکہ عوام ایسے عناصر کو غیر سنجیدہ اور سچ نہ بولنے والے قرار دے کر سزا دے رہے ہیں۔

Leave a Reply