اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت جمعرات کو ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ازبکستان کے سفیر علیشیر تختیو، پاکستانی کمرشل اتاشی ظہیر عباس، راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدرعثمان شوکت اور اُن کے وفد نے شرکت کی۔اجلاس میں راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے 150 رکنی تجارتی وفد کے حالیہ ازبکستان دورے پر تفصیلی بریفنگ …
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت اجلاس، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اقدامات پر غور

مزید خبریں
اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت جمعرات کو ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ازبکستان کے سفیر علیشیر تختیو، پاکستانی کمرشل اتاشی ظہیر عباس، راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدرعثمان شوکت اور اُن کے وفد نے شرکت کی۔اجلاس میں راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے 150 رکنی تجارتی وفد کے حالیہ ازبکستان دورے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں صحت، فارما، سیاحت اور تعمیرات سے وابستہ ماہرین شامل تھے۔
وفد نے ازبکستان میں اپنے تجربات، مختلف شعبوں میں ممکنہ تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق جامع رپورٹ پیش کی۔راولپنڈی چیمبر کے صدر نے بتایا کہ وفد نے ازبک فارما پارک، ایکسیلنس سینٹر، آئی سی ٹی سینٹر، ٹیکنیکل یونیورسٹی اور بزنس سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہیں ازبکستان کی صنعتی ترقی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں سے متعلق بریف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فارما پارک میں زمین، پراپرٹی اور پانی کے استعمال پر ٹیکس سے استثنیٰ اور تعمیراتی سامان پر صفر کسٹم ڈیوٹی جیسے اقدامات سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان میں بھی اسی طرز کے جدید فارما پارکس کے قیام کی ضرورت ہے۔راولپنڈی چیمبر نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدوں میں توسیع اور سیاحت، دفاع، ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی سفارش کی۔ چیمبر نے ہارون اختر خان کی دلچسپی، تعاون اور ازبکستان کے دورے کو سراہا۔
ہارون اختر خان نے وفد کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک۔ازبک تعلقات مختلف شعبوں میں تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی قومی صنعتی پالیسی اور ریگولیٹری اصلاحات کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور علاقائی اقتصادی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ بے پناہ امکانات رکھتا ہے اور پاکستان ازبکستان کے ساتھ اس میدان میں تعاون کو مزید وسعت دے گا۔
انہوں نے راولپنڈی چیمبر کی جانب سے مختلف شعبوں کے وفود کی شاندار قیادت کو قابلِ تعریف قرار دیا۔ہارون اختر خان نے تمام سٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ ازبکستان کے ساتھ طے شدہ ایم او یوز اور معاہدوں پر فوری فالو اپ کیا جائے اور مشترکہ منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں۔ازبک سفیر علیشیر تختیو نے تجارتی وفد کے دورے اور دلچسپی کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔








